بے بی پاؤڈر سے کینسر : جانسن اینڈ جانسن نے  76 ہزار مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے  5.5 ارب ڈالر  ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 امریکی دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن (J&J) نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے بیبی پاؤڈر اور دیگر ٹیلک مصنوعات سے رحم کے کینسر (اوورین کینسر) کے مبینہ سبب بننے کے الزامات سے متعلق دسیوں ہزار مقدمات نمٹانے کے لیے اندازاً 5.5 ارب ڈالر ادا کرے گی۔

یہ معاہدہ کمپنی کے خلاف گزشتہ ایک دہائی سے جاری ایک متنازع قانونی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ تصفیہ تقریباً 76 ہزار دعووں کا احاطہ کرے گا، جن میں نیو جرسی کی وفاقی عدالت میں یکجا کیے گئے مقدمات اور ریاستی عدالتوں میں زیرِ سماعت کیسز بھی شامل ہیں۔ یہ دعوے کمپنی کے خلاف باقی رہ جانے والے تقریباً تمام ٹیلک مقدمات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جانسن اینڈ جانسن اس سے قبل اپنے ٹیلک پاؤڈر میں مبینہ طور پر ایسبیسٹوس (Asbestos) کی موجودگی اور اس کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے خطرناک کینسر میسوتھیلیوما  کے الزامات سے متعلق زیادہ تر مقدمات بھی نمٹا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے جانسن اینڈ جانسن کی مصنوعات سے کینسر میں مبتلا افراد کے کمپنی پر نئے الزامات کیا ہیں؟

مدعیان کے وکلا نے بھی پیر کو اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دہائی تک جاری رہنے والی عدالتی جنگ کے بعد ایک مناسب حل ہے۔ تاہم معاہدہ اس وقت حتمی شکل اختیار کرے گا جب ریاستی یا وفاقی عدالتوں میں رحم کے کینسر سے متعلق 95 فیصد متاثرہ دعویدار اسے قبول کر لیں گے۔

کمپنی کا مؤقف: الزامات بے بنیاد، مگر معاملہ ختم کرنا چاہتے ہیں

جانسن اینڈ جانسن کے نائب صدر برائے قانونی امور ایرک ہاس نے کہا کہ کمپنی کے خلاف دعوے ’بے بنیاد‘ ہیں، تاہم وہ قانونی تنازعات کو ختم کرنے کے لیے تصفیے پر آمادہ ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ مزید قانونی کارروائی کی صورت میں بھی وہ کامیاب ہو جاتی، جیسا کہ اب تک زیادہ تر مقدمات میں ہوا، لیکن یہ معاہدہ کمپنی کو اس معاملے سے آگے بڑھنے اور زندگی بچانے والی ادویات و طبی آلات کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع دے گا۔

کمپنی کے مطابق وہ 2027 میں تقریباً 3 ارب ڈالر ادا کرے گی، جبکہ مزید ادائیگیاں 2028 میں کی جائیں گی۔ تاہم حتمی رقم اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنے افراد تصفیے میں شامل ہوتے ہیں۔

ٹیلک کیسز میں تقریباً 2500 موکلوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل کرس سیگر نے کہا کہ جانسن اینڈ جانسن کی مجموعی ادائیگی ممکنہ طور پر 7 ارب ڈالر یا اس سے زائد تک پہنچ سکتی ہے۔

ان کے مطابق معاہدے میں رحم کے کینسر سے متعلق اہل دعووں کے لیے مخصوص مالی قدر مقرر کی گئی ہے، تاہم کمپنی کی مجموعی ادائیگی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا، ’ہم نے ایک منصفانہ تصفیہ حاصل کیا ہے اور ہمارے موکل اس سے مطمئن ہوں گے۔‘

عدالتی کامیابیوں کے بعد تصفیے کا فیصلہ

جانسن اینڈ جانسن نے یہ تصفیہ ایسے وقت میں کیا ہے جب اسے عدالتوں میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

ان کامیابیوں میں انفرادی مقدمات میں فتوحات، مدعیان کے بعض وکلا کو مقدمات سے الگ کرنے کے فیصلے اور ان ماہرین کے خلاف عدالتی فیصلے شامل ہیں جن کے شواہد کی بنیاد پر مدعیان اپنے دعوے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے بھی کمپنی کو اس طویل قانونی جنگ میں اہم کامیابی ملی، جب ایک وفاقی جج نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا انفرادی مدعی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ خاص طور پر ٹیلک مصنوعات ہی ان کے رحم کے کینسر کا سبب بنیں۔

جانسن اینڈ جانسن طویل عرصے سے اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے کہ اس کی ٹیلک مصنوعات کینسر کا باعث بنتی ہیں۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ ٹیلک محفوظ ہے اور اس میں ایسبیسٹوس شامل نہیں تھا۔

کمپنی نے امریکا میں 2020 میں ٹیلک پر مبنی بیبی پاؤڈر کی فروخت روک دی تھی اور اس کی جگہ کارن اسٹارچ سے تیار کردہ مصنوعات متعارف کرائی تھیں۔

’ٹیکساس ٹو اسٹیپ‘ حکمت عملی بھی ناکام رہی

ٹیلک مصنوعات سے متعلق مقدمات مارچ 2025 میں دوبارہ فعال ہوئے، جب جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے مقدمات نمٹانے کے لیے اختیار کی گئی ’ٹیکساس ٹو اسٹیپ‘ حکمت عملی ناکام ہو گئی۔

اس حکمت عملی کے تحت کمپنی نے ایک ذیلی ادارے کے ذریعے دیوالیہ پن کی کارروائی شروع کی تاکہ قانونی دعووں کو تصفیے کے ذریعے حل کیا جا سکے، تاہم تینوں دیوالیہ پن کی درخواستیں عدالتوں نے مسترد کر دیں۔

یہ بھی پڑھیے کیا رنگ گورا کرنے والے انجیکشن کینسر کا باعث بن سکتے ہیں؟

دیوالیہ پن کی کوششوں سے قبل ٹیلک مقدمات میں کمپنی کا ریکارڈ ملا جلا رہا۔ ایک مقدمے میں 22 خواتین کے حق میں کئی ارب ڈالر کا فیصلہ سنایا گیا، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بیبی پاؤڈر ان کے رحم کے کینسر کا سبب بنا۔

تاہم کمپنی نے بعض مقدمات میں کامیابی حاصل کی، جبکہ کچھ فیصلوں میں اپیل کے بعد ہرجانے کی رقم کم کر دی گئی۔

نئے مقدمات تصفیے میں شامل نہیں ہوں گے

پیر کو اعلان کردہ معاہدہ صرف موجودہ دعووں پر لاگو ہوگا اور مستقبل میں دائر ہونے والے مقدمات کا احاطہ نہیں کرے گا۔

وکیل کرس سیگر کے مطابق مستقبل کے دعووں کو شامل نہ کرنے سے موجودہ متاثرین کے لیے زیادہ رقم دستیاب ہوئی ہے، جبکہ ادائیگیوں کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیوالیہ پن کے مجوزہ منصوبوں کے مقابلے میں اس تصفیے کے تحت تمام موجودہ دعووں کی ادائیگی 18 ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گی، جبکہ پہلے یہ عمل ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہ سکتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

پاکستان، امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، اسحاق ڈار

ستمبر میں نئی صنعتی پالیسی، نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، ہارون اختر

پنجاب میں ’لیب آن ویلز‘ کا آغاز، کھیت میں ہی مٹی اور پانی کا فوری سائنسی تجزیہ

29 جولائی سے 5 اگست تک ملک بھر میں مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ

ویڈیو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر سب سے آگے، چیف الیکشن کمشنر نے پہلا مرحلہ شفاف قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی