جاپان اور یونیسیف کا پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے طویل شراکت داری جاری رکھنے کا عزم

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے دہائیوں پر محیط شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا

جاپان یونیسیف کے دنیا بھر میں سب سے پرانے اور بڑے شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس طویل تعاون کے تحت بچوں اور خاندانوں کے لیے صحت، غذائیت، تعلیم، صاف پانی، صفائی ستھرائی، حفظان صحت اور بچوں کے تحفظ کے شعبوں میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

جاپان اور یونیسیف نے پاکستان میں مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے، پولیو کے خاتمے کی جاری کوششوں اور بچوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے مضبوط نظام کی تشکیل میں مل کر کام کیا ہے۔

سال 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد جاپان نے یونیسیف کے ہنگامی امدادی اقدامات کے لیے 64 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر فراہم کیے جس سے سندھ اور بلوچستان کے شدید متاثرہ علاقوں میں بچوں اور خاندانوں کو محفوظ پینے کا پانی، صفائی ستھرائی کی سہولیات، صحت کی خدمات اور غذائی معاونت فراہم کی گئی۔

اس تعاون نے متاثرہ کمیونٹیز کو بحالی میں مدد دی اور انہیں مستقبل کے بحرانوں کا بہتر مقابلہ کرنے کے قابل بنانے میں کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیے: جاپان کے کیوشو جزیرے میں 7.1 شدت کا زلزلہ، متعدد افراد زخمی، عمارتیں منہدم : وزیراعظم سانائے تاکائیچی

جاپان کے سفیر برائے پاکستان اکاماتسو شوئیچی نے کہا کہ جاپان اور یونیسیف نے ایک طویل سفر ساتھ طے کیا ہے اور یہ عالمی ترقیاتی تعاون کی سب سے پائیدار شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تعاون اس مشترکہ یقین پر قائم ہے کہ ہر بچے کو، چاہے وہ کہیں بھی پیدا ہو اور کسی بھی حالات میں زندگی کا آغاز کرے، صحت مند، محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کا یکساں موقع ملنا چاہیے۔

جاپانی سفیر نے کہا کہ جاپان کی خارجہ پالیسی انسانی ترقی، خصوصاً بچوں کی فلاح و بہبود کو حقیقی ترقی کا پیمانہ سمجھتی ہے۔

انہوں نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاپان کے مسلسل تعاون کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ جاپان نے ویکسینیشن مہمات کی حمایت کی ہے جن کے ذریعے ملک کے دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں میں لاکھوں بچوں تک رسائی حاصل کی گئی۔

مزید پڑھیں: جاپان میں ریچھوں کے حملوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد ‘مانسٹر وولف’ روبوٹ کی مانگ میں تیزی

یونیسیف پاکستان کی قائم مقام نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ جاپان کئی دہائیوں سے پاکستان کے بچوں کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے، بنیادی سہولیات کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں میں جاپان کے تعاون نے لاکھوں بچوں کو محفوظ رہنے، مشکلات سے نکلنے اور بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے میں مدد دی ہے۔

ان کے مطابق جاپان اور یونیسیف صرف موجودہ فوری ضروریات پوری نہیں کر رہے بلکہ ایسے مضبوط اور پائیدار نظام بھی تشکیل دے رہے ہیں جو مستقبل میں ہر بچے کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: جاپان اور نیپال نے بھارتی آموں کی درآمد پر پابندی لگا دی، وجہ کیا ہے؟

جاپان کی مسلسل سرمایہ کاری اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے رہی ہے کہ ہنگامی حالات کے دوران اور ان کے بعد بھی بچوں کے لیے بنیادی سہولیات جاری رہیں، جبکہ انسانی امداد کے ساتھ ساتھ پائیدار بحالی اور مضبوط نظام کی تعمیر کا عمل بھی آگے بڑھتا رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

پی سی بی کا ڈومیسٹک سیزن 27-2026 کے لیے کرکٹرز کی فٹنس پالیسی کا اعلان

گرفتار شرپسند کا کالعدم کمیٹی کے مسلح گروپ سے تعلق اور رینجرز پر فائرنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ن لیگ کا بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب

ایپل نے آئی او ایس 26.6 جاری کر دیا، سیکیورٹی اور کارکردگی مزید بہتر بنادی گئی

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی