جاپان اور نیپال نے کیڑے مار ادویات کی باقیات اور خوراک کے تحفظ سے متعلق خدشات کے باعث بھارتی آموں اور بعض دیگر پھلوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے بعد بھارت کی آم برآمد کرنے والی صنعت کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی گلوکارہ سنندا شرما نے کس آیت کو پلو سے باندھا ہوا ہے؟
رپورٹس کے مطابق جاپان جو بھارتی آموں کی برآمدات کے لیے ایک اہم اور اعلیٰ معیار کی منڈی سمجھا جاتا ہے نے تازہ آموں کی درآمد اس وقت معطل کی جب بھارت سے بھیجی گئی کھیپیں قرنطینہ اور کیڑوں سے تحفظ کے معیارات پر پوری نہ اتر سکیں۔
بتایا گیا ہے کہ جاپانی حکام نے درآمدی کھیپوں کے معائنے کے دوران قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی اور کیڑے مار ادویات کی باقیات سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی جس کے بعد درآمدات روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جاپان زرعی مصنوعات میں کیڑوں اور کیمیائی باقیات کے حوالے سے سخت حفاظتی معیارات پر عمل کرتا ہے۔
دوسری جانب نیپال نے بھی سرحدی قرنطینہ حکام کی جانب سے بعض کھیپوں میں مقررہ حد سے زیادہ کیڑے مار ادویات کی باقیات پائے جانے کے بعد بھارتی آموں اور دیگر پھلوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
مزید پڑھیے: ’دلہا بکتا ہے بولو خریدوگے‘: بھارت میں جہیز کے نام پر قتل کیوں عام ہیں؟ شرمناک وجوہات
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپالی حکام نے سرحدی معائنوں کے دوران سامنے آنے والے خدشات کے بعد یہ اقدامات کیے۔ اگرچہ نیپال بھارتی آموں کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل نہیں تاہم اس فیصلے سے اعلیٰ معیار کی اقسام کے تاجروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور بین الاقوامی غذائی تحفظ کے معیارات پر بھارت کی عملداری سے متعلق خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
بھارت دنیا میں آم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور الفانسو، کیسر اور دسہری جیسی معروف اقسام دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کرتا ہے۔
برآمد کنندگان کو ماضی میں بھی کیڑے مار ادویات کے استعمال، پیکنگ، مصنوعات کی مکمل ٹریس ایبلٹی اور کیڑوں سے تحفظ کے سخت بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان اور نیپال کی حالیہ پابندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زرعی طریقۂ کار کی مؤثر نگرانی، جدید جانچ کی سہولیات اور کسانوں میں بین الاقوامی برآمدی تقاضوں سے متعلق آگاہی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: ایودھیا، بھارتی سپریم کورٹ فیصلے کے تحت بننے والی مسجد کا منصوبہ محدود کردیا گیا
ماہرین کے مطابق ان پابندیوں کے بعد بھارتی برآمد کنندگان پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا کہ وہ معیار پر کنٹرول کے نظام کو مضبوط بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ برآمد کی جانے والی کھیپیں عالمی منڈیوں کے غذائی تحفظ کے تمام تقاضوں پر پوری اتریں۔














