پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ہار تسلیم کرے، بلاول بھٹو کو اپنے بیانیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے، مریم نواز

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن کا فیصلہ ریاست نہیں عوام کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کو کھلے دل سے شکست تسلیم کرنی چاہیے، بلاول بھٹو کو سیاسی بیان بازی کے بجائے اپنے بیانیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے۔

اپنے ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے ترقی کے نشان پر مہر لگا کر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کامیابی پر پارٹی کارکنوں کی محنت کو بھی سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا، مظفرآباد کے بعد میرپور میں بھی الیکٹرک بسیں پہنچ گئیں

بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا تھا کہ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوگی، تاہم وہ بلاول بھٹو سے کہنا چاہتی ہیں کہ انتخابات کا فیصلہ ریاست نہیں بلکہ عوام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تو مسلم لیگ (ن) نے کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کی، لیکن آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے دھاندلی کا الزام لگا دیا۔

مریم نواز نے کہا کہ عوامی فیصلے کو تسلیم کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ انتخابی مہم کے لیے مظفرآباد اور میرپور گئیں، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے جلسے بھی لوگوں نے دیکھے اور مسلم لیگ ن کے جلسوں کو بھی دنیا نے دیکھا، پیپلز پارٹی کے جلسے بھی خالی تھے، عوام نے شرکت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب سے 15 ’کلینک آن ویلز‘ آزاد کشمیر روانہ

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنے بیانیے پر محنت کرنی چاہیے، ان کے پاس آزاد کشمیر کے عوام کے لیے کوئی پروگرام نہیں تھا، نہ ان کے پاس کوئی اصلاحاتی ایجنڈا تھا اور نہ ہی ان کے پاس لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کارکردگی تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ سندھ میں گزشتہ 17 سال سے مسلسل ایک جماعت کی حکومت ہے، اس کے باوجود سندھ کا کوئی پروجیکٹ عوام کو دکھانے کے لیے نہیں تھا، آزاد کشمیر میں جہاں بھی میں گئی ایک ہی بات ہوئی کہ ہمیں پنجاب والی سہولیات چاہییں، آزاد کشمیر کے عوام ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور ناکافی صحت کی سہولیات سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صرف الزامات اور رونے دھونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ہے جہاں حقائق اور کارکردگی سب کے سامنے آجاتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سینئر سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن ووٹرز سمجھ چکے تھے کہ ان کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی نمایاں کارکردگی موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ’مریم نواز اسپورٹس سٹی‘ کے منصوبے میں پیشرفت، عالمی معیار کی سہولیات ایک ہی مقام پر

مریم نواز نے کہا کہ عوام نے کسان کارڈ، پکی سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کے حق میں ووٹ دیا ہے، ان کے بقول بلاول بھٹو یہ بھول گئے کہ گزشتہ ایک سال سے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے، اس کے باوجود انہوں نے وفاقی حکومت پر الزامات عائد کیے۔

انہوں نے کہا کہ جب کارکردگی نہ ہو تو دھاندلی کے الزامات لگانا آسان ہوتا ہے، جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی مبینہ دھاندلی کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جمہوریت میں عوام کے ووٹ اور فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

پی سی بی کا ڈومیسٹک سیزن 27-2026 کے لیے کرکٹرز کی فٹنس پالیسی کا اعلان

گرفتار شرپسند کا کالعدم کمیٹی کے مسلح گروپ سے تعلق اور رینجرز پر فائرنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ن لیگ کا بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب

ایپل نے آئی او ایس 26.6 جاری کر دیا، سیکیورٹی اور کارکردگی مزید بہتر بنادی گئی

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی