امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین سے درآمد کیے جانے والے نئے ہیومنائیڈ (انسان نما) اور 4 ٹانگوں والے روبوٹس (Quadruped Robots) کے علاوہ نیٹ ورک سے منسلک پاور اِنورٹرز کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے، قومی سلامتی اور اہم صنعتی سپلائی چین کو ممکنہ چینی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے منگل کو ان نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں اور ان کا اطلاق صرف ان نئے روبوٹ اور اِنورٹر ماڈلز پر ہوگا جو ابھی تک امریکی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرائے گئے۔ تاہم ایف سی سی کے پاس پہلے سے منظور شدہ مصنوعات کی فروخت کی اجازت واپس لینے کا اختیار بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے انسان یا مشین؟ چین میں جذبات سمجھنے والے حیرت انگیز حقیقی ہیومنائیڈ روبوٹس متعارف
ایف سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ آلات امریکی سپلائی چین میں کمزوریاں پیدا کر سکتے ہیں، جن سے ملکی معیشت، قومی سلامتی اور سائبر سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکی اہم تنصیبات بھی نشانے پر آ سکتی ہیں۔
ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار نے کہا کہ کمیشن امریکا کی اہم سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
چین کا سخت ردعمل
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے امریکی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا دونوں ممالک کی کاروباری برادری کی معروضی اور دانشمندانہ آواز کو سنے اور چینی کمپنیوں کو بدنام کرنے اور ان پر پابندیوں کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کرے۔
چینی سفارت خانے نے خبردار کیا کہ اگر امریکی اقدامات سے چین کے مفادات کو نقصان پہنچا تو بیجنگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اے آئی سپلائی چین کے تحفظ کی کوشش
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں چین کی جانب سے سپلائی چین میں ممکنہ مداخلت، ڈیٹا چوری اور سائبر حملوں کے خدشات کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کا مقصد کمپنیوں کو اپنی مینوفیکچرنگ امریکا منتقل کرنے کی ترغیب دینا بھی ہے تاکہ مستقبل میں تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں میں ملکی خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت سے لیس ہیومنائیڈ روبوٹس صنعتی اور گھریلو شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوں گے، جبکہ امریکا میں تیزی سے تعمیر ہونے والے ڈیٹا سینٹرز کے لیے قابل اعتماد پاور اِنورٹرز بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ امریکی دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) چوری کرنے والی چینی اے آئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
دوبارہ ‘ریئر ارتھ’ جیسی صورتحال سے بچنے کی کوشش
امریکی حکام اس بات سے بھی بچنا چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی تیاری میں استعمال ہونے والی ریئر ارتھ معدنیات کی طرح کسی اہم شعبے پر چین کا غلبہ قائم ہو جائے۔ چین ان معدنیات کی عالمی پیداوار میں نمایاں برتری رکھتا ہے اور ماضی میں ان کی برآمدات کو سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف سی سی امکاناً متعدد غیر چینی کمپنیوں کو ان پابندیوں سے استثنا دے گی، جیسا کہ اس نے اس سے قبل غیر ملکی ڈرونز اور راؤٹرز پر عائد بعض پابندیوں میں بھی کیا تھا۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنی
تجزیاتی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے مطابق ان پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنی یونی ٹری ہو سکتی ہے، جو دنیا کی معروف ہیومنائیڈ روبوٹ ساز کمپنیوں میں شامل ہے اور عالمی مارکیٹ میں تقریباً 20 فیصد حصہ رکھتی ہے۔
یونی ٹری حال ہی میں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی ان کمپنیوں کی فہرست میں بھی شامل کی گئی ہے جن پر چینی فوج سے روابط کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے گھریلو کام، اسپتال اور کارخانوں کے لیے اب روبوٹس کرائے پر بھی دستیاب، جانیے اضافی فوائد
کمپنی نے حال ہی میں امریکی چِپ ساز کمپنی این ویڈیا کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے، جس کے تحت این ویڈیا کے جدید بلیک ویل اے آئی چپس یونٹری کے روبوٹس کے ’دماغ‘ کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ این ویڈیا کا کہنا ہے کہ روبوٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکا میں ہی محفوظ رکھا جاتا ہے اور یونٹری کے زیادہ تر صارفین امریکی جامعات اور تحقیقی ادارے ہیں۔
جاسوسی اور سائبر حملوں کے خدشات
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ جدید روبوٹس حساس امریکی صنعتوں سے معلومات اکٹھی کر کے چین منتقل کر سکتے ہیں یا دور بیٹھ کر اہم نظاموں میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
ایف سی سی کے مطابق ایسے روبوٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا بدنیت عناصر کے لیے امریکی شہریوں کی نگرانی، غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیت بڑھانے یا روبوٹس کو دور سے کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کی چین سے متعلق خصوصی کمیٹی کے چیئرمین جان مولینار نے ایف سی سی کے فیصلے کو قومی سلامتی کے تحفظ اور امریکی روبوٹکس صنعت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
پاور اِنورٹرز بھی پابندی کی زد میں
چین دنیا میں پاور اِنورٹرز کا سب سے بڑا پیداوار ملک ہے، جہاں سن گرو پاور سپلائی اور ہواوے اس شعبے کی نمایاں کمپنیاں ہیں۔ امریکا پہلے ہی ہواوے پر سخت پابندیاں عائد کر چکا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں چینی کمپنیوں نے کم قیمتوں کے ذریعے مغربی منڈیوں میں اپنا حصہ بڑھایا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ان اِنورٹرز کے ذریعے بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر نصب کیا جا سکتا ہے یا بجلی کے اہم نظاموں میں خلل ڈالا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام 2023 میں سامنے آنے والی وولٹ ٹائیفون نامی مبینہ چینی ہیکنگ مہم جیسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں، جس میں ہیکرز نے نجی راؤٹرز کو استعمال کرتے ہوئے امریکی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
امریکی محکمہ دفاع پہلے ہی چینی یا دیگر “غیر قابلِ اعتماد غیر ملکی اداروں” کی جانب سے تیار کردہ سولر فوٹو وولٹک سیلز، ماڈیولز اور پاور اِنورٹرز کی خریداری پر پابندی عائد کر چکا ہے۔
خبر لکھے جانے تک یونی ٹری، سن گرو اور ہواوے کی جانب سے امریکی فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔














