عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کا انتظام خطے کے ممالک مشترکہ طور پر سنبھالیں گے اور جہازوں سے لازمی ٹیکس کے بجائے رضاکارانہ فیس لی جائے گی۔
مزید پڑھیں:امریکا اکیلا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے مال فراہم کریں: روبیو
رائٹرز کے مطابق یہ تجویز گزشتہ ہفتے تہران میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران کے حوالے کی گئی۔
تجویز کے مطابق رضاکارانہ فیس نیوی گیشن، ماحولیاتی تحفظ، تلاش و بچاؤ اور دیگر بحری خدمات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال ہوگی۔
Oman is reported to have sent a proposal to Iran outlining how to manage the Strait of Hormuz. A source has told Al Jazeera that Muscat has proposed a joint mechanism with Tehran to oversee the strategic waterway.
Al Jazeera’s @ResulSerdarAtas reports. pic.twitter.com/MoEwChf6St
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 28, 2026
یہ ماڈل آبنائے ملاکا کے موجودہ نظام سے اخذ کیا گیا ہے، جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہازوں سے رضاکارانہ تعاون وصول کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج اور بحرِ ہند کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران اس آبی راستے پر زیادہ اختیار اور ٹرانزٹ فیس کا خواہاں ہے، جبکہ عمان کی تجویز مشترکہ انتظام اور بین الاقوامی بحری اصولوں کے مطابق نظام متعارف کرانے پر مبنی ہے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر کون سے منصوبے زیرِ غور ہیں؟
اقوام متحدہ کے بحری قانون کے تحت آبنائے سے گزرنے کی محض اجازت کے عوض فیس وصول نہیں کی جاسکتی، البتہ مخصوص خدمات کے بدلے محدود فیس لینے کی گنجائش موجود ہے۔














