سینیٹ میں قانون سازی بڑھی مگر حاضری، نمائندگی اور پارلیمانی نگرانی پر سوالات برقرار، پلڈاٹ

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے سینیٹ کی 26-2025 کی کارکردگی پر اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوانِ بالا میں قانون سازی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم اراکین کی حاضری، خیبر پختونخوا کی نمائندگی میں تاخیر اور آئینی ترامیم کی منظوری کے طریقہ کار سمیت متعدد ادارہ جاتی کمزوریاں برقرار رہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران سینیٹ نے مجموعی طور پر 97 بل منظور کیے، جن میں 47 سرکاری اور 50 نجی اراکین کے بل شامل تھے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 51 تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نجی اراکین کی قانون سازی میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی، جبکہ آرڈیننسز پر انحصار بھی کم ہوا اور صرف 6 آرڈیننس ایوان میں پیش کیے گئے، جو گزشتہ سال 16 تھے۔

مزید پڑھیں: نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پلڈاٹ کا اشتراک

پلڈاٹ کے مطابق سال بھر میں سینیٹ کے 64 اجلاس منعقد ہوئے، جو گزشتہ سال کے 65 اجلاسوں سے ایک کم تھے، تاہم اجلاسوں کا مجموعی دورانیہ بڑھ کر قریباً 159 گھنٹے ہو گیا، جو گزشتہ سال 117 گھنٹے تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اراکین کی اوسط حاضری کم ہو کر 57.6 فیصد رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 62 فیصد تھی۔ قائدِ ایوان کی حاضری 31 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب سینیٹر شبلی فراز کی برطرفی کے بعد 5 ماہ 15 روز تک خالی رہا، جسے بعد میں سینیٹر راجا ناصر عباس نے سنبھالا۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ 10 گھنٹے 40 منٹ اظہارِ خیال کے ساتھ سب سے زیادہ متحرک سینیٹر رہے، ان کے بعد سینیٹر ایمل ولی خان، سینیٹر علی ظفر، سینیٹر شبلی فراز اور قائدِ ایوان سینیٹر اسحاق ڈار کا نمبر رہا۔

پلڈاٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو سال کا اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم انتہائی عجلت میں منظور کی گئی، جس سے پارلیمانی جانچ پڑتال اور تفصیلی غور و خوض کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستیں انتخابی تاخیر اور قانونی تنازعات کے باعث قریباً 23 ماہ تک خالی رہیں، جس سے وفاقی نمائندگی متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ اپوزیشن ارکان کے قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں نے پارلیمانی نگرانی کو بھی کمزور کیا۔

مزید پڑھیں: پلڈاٹ نے سینیٹ پاکستان کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی

پلڈاٹ کے مطابق مئی 2025 کے پاک-بھارت بحران کے دوران سینیٹ کی جانب سے متفقہ قرارداد کی منظوری قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے کی عکاس تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سینیٹ کا بجٹ 2024-25 کے 7 ارب 24 کروڑ 20 لاکھ روپے سے بڑھ کر 26-2025 میں 9 ارب 5 کروڑ 50 لاکھ روپے ہو گیا، جو قریباً 25 فیصد اضافہ ہے، جبکہ فی رکن مختص رقم بڑھ کر 9 کروڑ 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر انتخابات : میرپور ڈویژن کے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری

عائشہ عمر کی فلم ‘میرا لیاری’ کا ٹی وی پریمیئر 31 جولائی کو ہوگا

شہزادہ ہیری کی ڈیلی میل کے خلاف قانونی جنگ دوبارہ عدالت میں، 5 کروڑ پاؤنڈ کے اخراجات پر فیصلہ متوقع

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے پاکستان سمیت مختلف ممالک میں تعینات نئے سفیروں نے حلف اٹھا لیا

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

ویڈیو

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی