گوگل نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے یوٹیوب ماحولیاتی نظاموں میں شامل ہوچکا ہے، جہاں تخلیق کار اپنی معیاری اور منفرد ویڈیوز کے ذریعے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی ناظرین کو بھی اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں۔
گوگل کے مطابق پاکستان کے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد یوٹیوب چینلز کے 10 ہزار سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں، جبکہ 19 ہزار سے زائد چینلز نے ایک لاکھ سبسکرائبرز کا ہندسہ عبور کرلیا ہے۔ اسی طرح ایک ہزار 200 سے زیادہ پاکستانی چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ٹک ٹاک صارفین کے لیے پہلا تخلیق کار ایوارڈ
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی یوٹیوب چینلز پر دو کروڑ گھنٹے سے زیادہ ویڈیو مواد اپ لوڈ کیا گیا، جبکہ پاکستانی تخلیق کاروں کے مواد کو ملنے والے مجموعی واچ ٹائم کا 60 فیصد حصہ بیرونِ ملک ناظرین سے آیا۔
جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا میں پاکستانی مواد کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اس کے معیار، تخلیقی صلاحیت اور عالمی کشش کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔
گوگل میں پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستانی تخلیق کار ثابت کررہے ہیں کہ معیاری کہانی سنانے کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

ان کے مطابق یوٹیوب کے ذریعے پاکستانی تخلیق کار نہ صرف ملکی ثقافت، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں بلکہ پائیدار کاروبار، روزگار کے مواقع اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو نیٹ فلکس پر جگہ دلانے کے لیے سرگرم
گوگل کے مطابق پاکستانی یوٹیوبرز مختلف شعبوں میں عالمی معیار کا مواد تیار کر رہے ہیں۔ شہویر جعفری اپنی طویل دورانیے کی تفریحی ویڈیوز کے ذریعے لاکھوں ناظرین کو متوجہ کر رہے ہیں، جبکہ ابرار حسن اپنے چینل وائلڈ لینز بائی ابرار پر دنیا بھر کے سفر اردو اور پنجابی زبان میں پیش کر کے بین الاقوامی سطح پر مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔
کھانوں سے متعلق مواد بھی عالمی سطح پر پسند کیا جا رہا ہے۔ فوڈ فیوژن پاکستان کا پہلا فوڈ چینل بن چکا ہے جس کی ویڈیوز ایک ارب سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں، جبکہ رانا حمزہ سیف مختلف شہروں کے ذائقوں اور منفرد فوڈ وی لاگز کے ذریعے بڑی تعداد میں ناظرین تک پہنچ رہے ہیں۔
تعلیمی مواد کے شعبے میں منہال تمور کا چینل مینوکٹوپس تکنیکی، سماجی اور ثقافتی موضوعات پر تفصیلی تجزیاتی ویڈیوز پیش کر رہا ہے، جبکہ آمنہ حیدر اسانی اور حسن چوہدری کے مشترکہ پلیٹ فارم سم تھنگ ہاؤٹ نے پاکستانی ڈراموں، فلموں اور شوبز پر تجزیاتی تبصروں کو یوٹیوب پر نئی شناخت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کتنے فیصد ڈیجیٹل تخلیق کار غیرمصدقہ خبریں پھیلاتے ہیں، یونیسکو کا منفرد سروے
گوگل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یوٹیوب تخلیق کاروں کی تعداد اور ان کے مواد کے معیار میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیاری پاکستانی مواد دنیا بھر میں اپنی جگہ بنا رہا ہے اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے نئے مواقع پیدا کررہا ہے۔













