ایران کے خلاف سخت کارروائی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہ کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو 6 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران کو سخت حملے کی دھمکی، مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کا اعلان
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 89.61 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 6.4 فیصد اضافے کے ساتھ 84.31 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ ایران کو سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں سخت نشانہ بنائیں گے اور انہیں بھرپور جواب ملے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر بیلسٹک میزائل حملے کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تاہم امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز
امریکی سینٹرل کمان کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ 3 روز کے دوران ایران نواز گروپوں کی جانب سے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
ادھر برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں ایک آئل ٹینکر کے قریب مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دی ہے۔ ادارے کے مطابق جہاز کے کپتان نے سفر کے دوران دھماکے کی آواز سننے کی اطلاع دی جس کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: مجھے نیتن یاہو کی فراہم کردہ معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مرکزی بینک کی آئندہ پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے جبکہ سرمایہ کار آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔














