آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعات کے حقائق جاننے کے لیے غیرجانبدارانہ جائزہ ضروری ہے، کیونکہ بظاہر پُرامن احتجاج کا دعویٰ کرنے والے عناصر کے درمیان مسلح افراد بھی موجود ہیں، جو پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ اگر کوئی غیرجانبدار شخص موقع پر جا کر صورتحال کا جائزہ لے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کی تلاشی لی جا رہی ہے، شناختی کارڈ چیک کیے جا رہے ہیں اور شہریوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض افراد سفید جھنڈے اٹھا کر خود کو پُرامن مارچ کرنے والے قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے درمیان ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس اسلحہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ہتھیاروں کے ذریعے پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کو زخمی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار، اسلحہ اور مواصلاتی آلات برآمد،ترجمان پولیس آزاد کشمیر
ایس ایس پی نے کہا کہ اگر کسی کے پاس ہتھیار موجود ہیں اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں تو اسے پُرامن سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں، جن کا تعلق کسی اور واقعے سے ہوتا ہے لیکن انہیں موجودہ صورتحال سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی ویڈیوز کے ذریعے غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات، ان پر حملے، انہیں یرغمال بنانے اور شناختی کارڈ لینے جیسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے سنائپرز اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق کارروائیوں کے دوران ان افراد سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج میں 6 سویلین اور 3 پولیس اہلکار جاں بحق
ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ اگر کوئی گروہ ہتھیاروں کے ساتھ سڑکوں پر نکلتا ہے تو وہ دوسروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سرگرمیاں ایک منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں، جن میں دہشت گردی کا عنصر شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر رات کے وقت مختلف کارروائیوں کے ذریعے اہلکاروں کو نقصان پہنچایا گیا، فائرنگ کی گئی اور لوگوں کو زخمی کیا گیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے صورتحال کو سمجھیں۔
پولیس ترجمان نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے اندر ایک مردہ شخص کے ساتھ مبینہ بے حرمتی کا واقعہ بھی سامنے آیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاش کی آنکھیں نکالنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے واقعات کے بعد ان عناصر کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر پُرامن کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں کا پولیس پر حملہ، 3 اہلکار شہید
انہوں نے کہا کہ امن صرف دعووں سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی گروہ ہتھیاروں کے ساتھ نکلے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنائے تو اسے پُرامن احتجاج نہیں کہا جا سکتا۔
ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ بعض اوقات ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں جن میں نقصان اپنے ہی لوگوں کی کارروائی سے ہوتا ہے، لیکن الزام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حقائق اور واقعات کی مکمل صورتحال کو دیکھ کر فیصلہ کریں۔
انہوں نے گزشتہ برسوں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 11 مئی 2024 کو ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کا ایک سب انسپکٹر شہید ہوا، جبکہ 60 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران 174 اہلکار معمولی زخمی بھی ہوئے تھے، جبکہ بعض اہلکار پہاڑی علاقوں سے گرنے کے باعث شدید متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کا زخمی ہونے کا جعلی ڈرامہ، پولیس کے قریب آتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے
ایس ایس پی کے مطابق 2025 میں پیش آنے والے واقعات کے دوران تین اہلکار شہید ہوئے، جن میں جمیل اور طاہر فائرنگ جبکہ خورشید مبینہ طور پر تشدد کے واقعے میں جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران 52 اہلکار شدید زخمی اور 357 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2026 کے دوران اب تک 21 اہلکار شہید، 157 شدید زخمی اور 629 اہلکار معمولی زخمی ہو چکے ہیں۔
ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ جو لوگ خود کو مظلوم ظاہر کر رہے ہیں، ان کے اقدامات اور حقائق کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر کی سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں اور انہیں صرف پُرامن احتجاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں اور عوام دونوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ حقائق کو سامنے رکھا جائے اور افواہوں کے بجائے زمینی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے۔














