وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے الیکشن کے حلف نامے سے پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ہم نے ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے زیادہ نکات مانے لیکن یہ مزید مطالبات لے آئے۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میرپور ڈویژن میں ہونے والے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات شفاف، منصفانہ اور پرامن انداز میں منعقد ہوئے، جبکہ دھاندلی کے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ن لیگ کا بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب
انہوں نے کہاکہ 50 فیصد سے زیادہ ٹرن آؤٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام نے جمہوری نظام پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔
امیر مقام نے کہاکہ انتخابات کے انعقاد سے قبل یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ عوام ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں نکلیں گے، ٹرن آؤٹ انتہائی کم ہوگا اور انتخابی عمل ناکام ہو جائے گا، مگر تمام خدشے غلط ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں انتخابات کا کامیاب انعقاد بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے، جس کا کریڈٹ صرف کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں، آزاد کشمیر حکومت، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، دیگر ریاستی اداروں، قائم مقام صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو جاتا ہے۔
’دھاندلی کے الزامات سے ریاستی اداروں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے‘
وفاقی وزیر نے کہاکہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن بے بنیاد الزامات لگانے سے ان تمام اداروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جنہوں نے انتخابات کے انعقاد کے لیے دن رات محنت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے بیرونی دنیا اور پاکستان کے مخالفین کو بھی غلط پیغام جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ گزشتہ 2 برس سے آزاد کشمیر کے انتخابی نظام کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور 33 میں سے شاید ہی کوئی حلقہ ایسا ہو جہاں وہ دو یا تین مرتبہ نہ گئے ہوں۔
انہوں نے کہاکہ وہ جو بھی بات کررہے ہیں، اس کی بنیاد حقائق اور زمینی مشاہدات پر ہے، نہ کہ جوابی سیاست پر۔
اگر دھاندلی ہوئی تو کس نے کی؟
امیر مقام نے سوال اٹھایا کہ اگر دھاندلی ہوئی تو آخر کس نے کی؟ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت، چیف الیکشن کمشنر، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایس پیز اور دیگر انتظامی افسران سب آزاد کشمیر حکومت کے ماتحت ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پھر یہ کہنا کہ مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کی، کسی صورت منطقی بات نہیں۔
’2016 کی کامیابی بھی مسلم لیگ (ن) کی تھی‘
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کوئی نئی بات نہیں کیونکہ 2016 کے انتخابات میں بھی پارٹی نے کلین سویپ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) پہلے بھی عوامی حمایت حاصل کرتی رہی ہے، اس لیے اس کی انتخابی کامیابی کو غیر معمولی قرار دینا درست نہیں۔
’ہر حلقے کے نتائج کے پیچھے سیاسی حقائق موجود ہیں‘
وفاقی وزیر نے کہاکہ جن حلقوں پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں، اگر ان کا موازنہ 2021 کے انتخابات سے کیا جائے تو حقیقت خود سامنے آ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے سیاسی مخالفین کو بھی پارٹی میں شامل کیا، پرانے اختلافات ختم کیے اور مضبوط انتخابی اتحاد قائم کیے، جس کا فائدہ انہیں ووٹوں کی صورت میں ملا۔
ڈڈیال میں کامیابی کی وجہ کیا تھی؟
انہوں نے کہاکہ میرپور کے حلقہ ڈڈیال میں بلاول بھٹو زرداری نے جلسہ کیا، لیکن وہاں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پہلے بھی کامیاب ہوئے تھے اور ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے وہاں مختلف سیاسی قوتوں کے ووٹ یکجا ہوئے اور مسلم لیگ (ن) کامیاب رہی۔
’سماہنی واقعے پر فوری کارروائی ہوئی‘
سماہنی میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ چند پولنگ اسٹیشنوں پر ناخوشگوار صورتحال ضرور پیدا ہوئی، تاہم وہاں مسلم لیگ (ن) کا اصل مقابلہ پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ استحکام پاکستان پارٹی سے تھا۔
انہوں نے کہاکہ جیسے ہی واقعہ پیش آیا، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے، صورتحال پر قابو پایا، ملوث افراد کو گرفتار کیا اور انتخابی عمل مکمل کرایا۔
’سماہنی میں کامیابی کی وجہ بھی سیاسی حکمت عملی تھی‘
انہوں نے کہاکہ سماہنی میں 2021 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور دیگر امیدواروں کے ووٹ الگ الگ تھے، لیکن اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) نے سیاسی حکمت عملی کے تحت مختلف امیدواروں کو ساتھ ملا لیا، جس کے باعث ووٹ یکجا ہوئے اور پارٹی کامیاب رہی۔
’قتل کے واقعے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے‘
امیر مقام نے کہاکہ ایک حلقے میں قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کی وہ پہلے بھی مذمت کر چکے ہیں اور آج بھی اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ الیکشن سے قریباً 10 روز قبل مسلم لیگ (ن) کی ریلی پر فائرنگ ہوئی تھی، جس میں پارٹی کے رہنما ملک عاشق جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ وہ خود سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر کے ہمراہ مقتول کے گھر گئے، اہل خانہ سے تعزیت کی اور ان کے لیے دعا کی۔
ان کے مطابق الیکشن کے روز پیش آنے والا دوسرا واقعہ ایک ہی پولنگ اسٹیشن پر ایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان جھگڑے کا نتیجہ تھا، اسے جماعتی تصادم یا پورے حلقے کی صورتحال قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی، حالات معمول پر لائے، پولنگ شام 6 بجے تک جاری رہی اور بعد ازاں ووٹوں کی گنتی بھی مکمل ہوئی۔
’راجا ریاست کے حلقے میں کامیابی اتحاد کا نتیجہ تھی‘
کوٹلی کے حلقہ چڑہوئی سے متعلق اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے امیر مقام نے کہاکہ 2021 کے مقابلے میں اس بار مسلم لیگ (ن) نے بھرپور سیاسی رابطے کیے اور سابق ارکان اسمبلی سمیت مختلف سیاسی شخصیات کو پارٹی میں شامل کیا۔
’عوام نے جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کیا‘
وفاقی وزیر نے کہاکہ قریباً ساڑھے 6 لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور 50 فیصد سے زیادہ ٹرن آؤٹ نے ثابت کر دیا کہ آزاد کشمیر کے عوام جمہوری نظام پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل میں کردار ادا کرنے والے تمام اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے، نہ کہ بغیر شواہد کے ایسے الزامات لگائے جائیں جن سے اداروں کی ساکھ متاثر ہو۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: عوام نے ووٹ کے ذریعے انتشار کی سیاست مسترد کر دی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرپور کے بعد مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں بھی مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی اور آئندہ حکومت بنائےگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم سے متعلق فیصلہ سابق وزیراعظم نواز شریف کریں گے۔













