چین:لاجسٹکس میں بڑی پیشرفت، شیامن پورٹ پر جہاز سے ٹرین تک براہِ راست منتقلی

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

چین کے شہر شیامن کی بندرگاہ پر جدید ’سی ریل‘ نقل و حمل کا منصوبہ فعال کر دیا گیا ہے، جس سے بحری جہازوں سے کنٹینرز اور دیگر سامان براہِ راست مال بردار ٹرینوں میں منتقل کیا جا سکے گا۔ اس منصوبے کا مقصد لاجسٹکس کی رفتار بڑھانا، اخراجات کم کرنا اور بندرگاہ کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔

چین نے جنوب مشرقی صوبہ فوجیان کے شہر شیامن کی بندرگاہ پر جدید سمندر-ریل انٹرموڈل ریلوے لائن فعال کر دی ہے، جسے ملک میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے انضمام کے لیے شروع کیے گئے اہم منصوبوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق 1,586 میٹر طویل اس ریلوے ٹریک کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ بحری جہازوں سے اتارا جانے والا سامان براہِ راست مال بردار ٹرینوں میں منتقل کیا جا سکے۔ ریلوے لائن بندرگاہ کے گھاٹ سے صرف 70 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جس سے کنٹینرز اور دیگر کارگو کی منتقلی کا عمل انتہائی تیز اور آسان ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کی سالانہ استعداد 2 لاکھ 50 ہزار ٹی ای یو کنٹینرز اور تقریباً ڈھائی لاکھ ٹن بلک کارگو سنبھالنے کی ہے، جس سے بندرگاہ کی مجموعی استعداد اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین میں بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی سیاحتی ٹرین سروس

اس نئے نظام کے ذریعے سامان کو پہلے ٹرکوں پر منتقل کرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی، جس سے نہ صرف وقت اور لاگت میں بچت ہوگی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ اور کاربن کے اخراج میں بھی کمی آئے گی۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ سمندر اور ریل کے مربوط نظام سے ملکی و بین الاقوامی سپلائی چین مزید مضبوط ہوگی، جبکہ شیامن بندرگاہ کو خطے میں تجارت اور لاجسٹکس کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp