جرمن لگژری گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی بی ایم ڈبلیو (BMW) نے 2027 کے اختتام تک جرمنی میں 8 ہزار ملازمتیں کم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ کمپنی کے ایک ذریعے کے مطابق اس مقصد کے لیے تقریباً 40 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی (Voluntary Redundancy) کی پیشکش کی جائے گی جبکہ فیکٹریوں میں پروڈکشن لائن پر کام کرنے والے ملازمین اس منصوبے سے متاثر نہیں ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق بی ایم ڈبلیو کے جرمنی میں تقریباً 85 ہزار مستقل ملازمین ہیں جن میں سے دفتری امور انجام دینے والے ملازمین کو اکتوبر سے رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش کی جائے گی۔ کمپنی کا ہدف 2027 کے اختتام تک ملازمین کی تعداد میں مجموعی طور پر 8 ہزار کی کمی لانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہونڈا اٹلس کا پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں فوری اینٹری سے انکار، وجہ کیا ہے؟
کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ انتظامیہ اور ورکس کونسل کے درمیان تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ بی ایم ڈبلیو دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ 54 ہزار افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہے۔
جرمن آٹو انڈسٹری اس وقت الیکٹرک گاڑیوں پر کم منافع، امریکی درآمدی محصولات (ٹیرف) اور چینی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے متعدد بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تنظیمِ نو کے اقدامات کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
ووکس ویگن ایک لاکھ تک ملازمتیں ختم کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے جبکہ مرسڈیز بینز بھی رضاکارانہ علیحدگی کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔
اگرچہ بی ایم ڈبلیو نے پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی پیداوار جاری رکھنے کی حکمت عملی کے باعث اپنے کئی حریفوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی تاہم گزشتہ ماہ کمپنی نے منافع کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ چین میں کاروباری صورتحال توقعات سے زیادہ خراب ہے۔
کمپنی کی چین میں گاڑیوں کی فروخت گزشتہ سال 2017 کے بعد کم ترین سطح پر رہی جبکہ رواں سال جون تک تین ماہ کے دوران فروخت میں سالانہ بنیاد پر 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن نان کسٹم گاڑیوں کا کاروبار، ملک بھر میں گھروں تک ڈیلیوری کیسے ہورہی ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ علیحدگی کا پروگرام 2028 تک کمپنی کے اخراجات میں نمایاں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا تاہم تنظیمِ نو کے عمل پر رواں سال کمپنی کو سیکڑوں ملین کی لاگت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب مشاورتی ادارے EY کے مطابق جرمنی کی صنعتی کمپنیوں نے گزشتہ سال مجموعی طور پر ایک لاکھ 24 ہزار ملازمتیں ختم کیں جن میں سب سے زیادہ متاثر آٹو موبائل سیکٹر رہا۔
مرسڈیز بینز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اولا کیلینیئس کا کہنا ہے کہ عالمی مسابقت کے پیش نظر جرمن آٹو انڈسٹری کو کم وسائل میں زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہوگی، کیونکہ اس وقت پورا شعبہ شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔














