وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سینئر ٹی وی اداکار محمد احمد کے ساتھ ایک ڈرامہ سیریل کے سیٹ پر پیش آنے والے واقعے کو نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے نوجوان فنکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت اور رہنمائی کے لیے باقاعدہ مینٹورشپ پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ محمد احمد جیسے سینئر اور تجربہ کار فنکاروں کی سربراہی میں ایک مینٹورشپ پروگرام یا سینئر فنکاروں پر مشتمل کونسل قائم کی جانی چاہیے جو نئے آنے والے اداکاروں کی پیشہ ورانہ رہنمائی کرے، انہیں اخلاقی اور پیشہ ورانہ اصولوں، سیٹ پر برتاؤ اور ڈرامہ انڈسٹری کے تقاضوں سے آگاہ کرے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
What happend with Muhammad Ahmed saheb, Senior TV Artist on the set of a drama serial is not only condemnable but highly deplorable. I would like to offer a solution in the form of a mentorship program for young tv artists headed by senior tv artists like Ahmed sb or a council on…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) July 30, 2026
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید اعلان کیا کہ اس مقصد کے لیے جلد ہی ٹی وی فنکاروں کا ایک اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں سینئر اور جونیئر فنکاروں سے مشاورت کے بعد مؤثر سفارشات اور قابلِ عمل لائحۂ عمل مرتب کیا جائے گا، تاکہ ڈرامہ انڈسٹری میں باہمی احترام، پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور مثبت ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔
واضح رہے کہ سید محمد احمد نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ایک نوجوان مرکزی اداکار نے شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سید محمد احمد کے الزامات کے بعد فہد شیخ نے خاموشی توڑ دی، ویڈیو لیک کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ
بعد ازاں سوشل میڈیا پر اس واقعے کو فہد شیخ سے جوڑا گیا جس کے بعد اداکار کو شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا صارفین کا کہنا تھا کہ سینئر اداکار کا سارے نوجوان اداکار مل کر مذاق اڑا رہے ہیں کسی بھی سینئر فنکار کی تضحیک، اجتماعی طور پر ہراساں کرنا یا اس کا مذاق اڑانا کسی مہذب معاشرے اور پیشہ ورانہ ماحول میں قابلِ قبول نہیں۔
صارفین کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ واقعی ورک پلیس ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے تو اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس معاملے کو ایک مثال بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی کسی ساتھی یا سینئر فنکار کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی جرات نہ ہو۔
ایک بزرگ ایکٹر محمد احمد کو اتنے سارے بے حیا اور بے غیرت ایکٹرز مل کے bully کررہے ہیں اور مذاق اُڑا رہے ہیں۔
یہ ورک پلیس ہراس منٹ ہے اور اس پر کرمنل کیس بن سکتا ہے، اور اس پر کرمنل کیس بننا چاہیئے
اس واقعے کو ٹیسٹ کیس بنائیں، تاکہ آئندہ کسی کی ہمت نہ ہو pic.twitter.com/8VyDgqflOb— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) July 29, 2026
تنقید کے بعد اداکار نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ گردش ویڈیو دراصل شوٹنگ کے دوران کاسٹ کے درمیان ہونے والے دوستانہ ماحول کا حصہ تھی کیونکہ تمام فنکار ایک خاندان کی طرح تھے۔ ان کے مطابق ویڈیو میں دکھائی جانے والی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جس کے باعث غلط تاثر پیدا ہوا۔
اداکار نے کہا کہ وہ سید محمد احمد سے پہلے بھی معذرت کر چکے ہیں اور اگر سینئر اداکار چاہیں تو وہ عوامی سطح پر بھی دوبارہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔
فہد شیخ نے اس موقع پر سیٹ سے ویڈیو لیک کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی نوعیت کی ویڈیو کو بغیر اجازت سوشل میڈیا پر شیئر کرنا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے اور اس معاملے پر قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔














