دریا، جھیل یا آبشار میں نہانے جا رہے ہیں؟ پہلے یہ خطرناک حقائق ضرور جان لیں

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گرمیوں کی چھٹیوں میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد دریاؤں، جھیلوں، آبشاروں اور سمندری ساحلوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ شدید گرمی سے راحت حاصل کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

پاکستان میں بھی سوات، ناران، کاغان، ہنزہ، نیلم ویلی، تربیلا، منگلا اور مختلف ساحلی علاقوں میں قدرتی پانی میں نہانے اور تیراکی کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تاہم ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگر مناسب احتیاط نہ کی جائے تو یہی تفریح معدے کی بیماریوں، خطرناک انفیکشنز اور بعض اوقات جان لیوا امراض کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

دنیا بھر میں قدرتی پانی میں تیراکی، جسے اوپن واٹر یا وائلڈ سوئمنگ کہا جاتا ہے گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا، کم خرچ تفریح اور ذہنی دباؤ میں کمی جیسے عوامل نے اس رجحان کو مزید فروغ دیا ہے۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ دریا، جھیل یا سمندر جیسے قدرتی آبی مقامات کے قریب وقت گزارنے یا وہاں تیراکی کرنے سے ذہنی سکون ملتا ہے، ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فوائد کے ساتھ بعض اہم خطرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

بارش کے بعد پانی زیادہ خطرناک کیوں ہو جاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق شدید بارش کے بعد دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کی آلودگی نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔ بارش کا پانی شہروں کے سیوریج، کھیتوں میں استعمال ہونے والی کھاد، جانوروں کے فضلے اور دیگر آلودہ مادوں کو اپنے ساتھ بہا کر دریاؤں اور جھیلوں میں لے آتا ہے۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی میں کون سے کپڑے پہنیں؟ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ماہرین کے بہترین مشورے

پاکستان میں بھی مون سون کے دوران یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے اس لیے بارش کے فوراً بعد دریاؤں، ندی نالوں اور جھیلوں میں نہانے سے گریز کرنا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماحولیاتی مائیکرو بایولوجی کی ماہر ڈاکٹر ازابیل ڈاؤتریلو سولر کے مطابق شدید بارش کے بعد کم از کم 24 سے 72 گھنٹے تک دریا عموماً تیراکی کے لیے محفوظ نہیں رہتے کیونکہ اس دوران جراثیم اور آلودگی کی مقدار نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

کون سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں؟

تحقیقی رپورٹس کے مطابق قدرتی پانی میں تیراکی کے دوران سب سے زیادہ خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پانی منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو جائے۔

زیادہ تر متاثرہ افراد کو اسہال، الٹی، معدے میں درد اور بخار جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم بعض جراثیم اس سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

چوہوں کے پیشاب سے پھیلنے والی بیماری

ماہرین نے خاص طور پر لیپٹوسپائروسس نامی بیکٹیریا سے خبردار کیا ہے جو چوہوں اور بعض مویشیوں کے پیشاب کے ذریعے پانی میں شامل ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہیٹ ویوز کے دوران پالتو جانوروں کو موسمی اثرات سے کیسے بچایا جائے؟

اگرچہ یہ بیماری عام نہیں، لیکن بعض مریضوں میں جگر، گردوں اور دیگر اہم اعضا کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح گرم موسم میں بعض جھیلوں اور سست رفتار دریاؤں میں نیلگوں سبز کائی پیدا ہو سکتی ہے جو ایسے زہریلے مادے خارج کرتی ہے جو جلد، آنکھوں، جگر اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ نشانیاں نظر آئیں تو پانی میں ہرگز نہ اتریں

ماہرین کے مطابق اگر پانی میں درج ذیل علامات موجود ہوں تو وہاں تیراکی نہیں کرنی چاہیے۔

پانی سبز، نیلگوں یا مٹر کے سوپ جیسا دکھائی دے۔

پانی پر جھاگ یا سبز تہہ بنی ہوئی ہو۔

بدبو آ رہی ہو۔

مردہ مچھلیاں نظر آئیں۔

پانی غیر معمولی حد تک گدلا یا بھورا ہو۔

قریبی علاقے میں سیوریج کا پانی شامل ہو رہا ہو۔

اینٹی بائیوٹک سے مزاحمت رکھنے والے جراثیم بھی موجود

تحق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض دریاؤں اور ساحلی علاقوں میں ایسے بیکٹیریا بھی موجود ہوتے ہیں جو اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے جراثیم سے انفیکشن ہو جائے تو اس کا علاج نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے

کیا سرکاری ٹیسٹ کافی ہوتے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق کئی ممالک میں پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے تاہم یہ ٹیسٹ ہر وقت پانی کی اصل صورتحال نہیں بتاتے۔

یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے

بارش یا سیلاب کے بعد پانی چند گھنٹوں میں شدید آلودہ ہو سکتا ہے جبکہ سرکاری رپورٹ بعد میں جاری ہوتی ہے اس لیے صرف سرکاری اعداد و شمار پر انحصار کرنے کے بجائے پانی کی موجودہ حالت کا بھی خود جائزہ لینا ضروری ہے۔

پاکستان میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

پاکستان میں گرمیوں اور مون سون کے دوران ہزاروں افراد دریاؤں، آبشاروں اور جھیلوں میں نہاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں بھی وہی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں جو دنیا کے دیگر ممالک میں تجویز کی جاتی ہیں۔

اگر حال ہی میں بارش ہوئی ہو، سیلابی ریلہ گزرا ہو یا پانی کا رنگ تبدیل نظر آئے تو تیراکی سے گریز کیا جائے۔

اسی طرح چھوٹے بچوں، بزرگوں، کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد یا جسم پر زخم رکھنے والوں کو قدرتی پانی میں نہانے سے پہلے زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

محفوظ تیراکی کے لیے ماہرین کی ہدایات

ماہرین صحت کے مطابق قدرتی پانی میں تیراکی کے دوران چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے بیماریوں کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

شدید بارش یا سیلاب کے بعد کم از کم دو سے تین دن تک دریا یا جھیل میں نہ اتریں۔

پانی نگلنے سے حتیٰ الامکان بچیں۔

جسم پر زخم ہو تو تیراکی نہ کریں۔

نہانے کے فوراً بعد صاف پانی سے غسل کریں۔

بخار، اسہال، الٹی، شدید سر درد یا جسم میں درد محسوس ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بچوں کو بغیر نگرانی کے قدرتی پانی میں نہ جانے دیں۔

مزید پڑھیں: پانی میں نیلی سبز کائی: انسان اور جانوروں دونوں کے لیے خطرناک

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی پانی میں تیراکی صحت اور ذہنی سکون کے لیے فائدہ مند سرگرمی ہو سکتی ہے تاہم اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ موسمی حالات، پانی کی کیفیت اور حفاظتی اصولوں کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ بروقت احتیاط ہی بیماریوں سے بہترین تحفظ فراہم کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی، فوری اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کا حکم

2 سال کی عمر سے پہلے کم چینی کھانا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

ایپل کے ستمبر ایونٹ میں آئی فون 18 پرو اور آئی فون الٹرا متعارف کرائے جانے کا امکان

اسحاق ڈار کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ، فلسطین اور مشرقی بیت المقدس کی صورتحال پر تبادلہ خیال

اوپن اے آئی ہگنگ فیس سائبر حملہ: نئی تفصیلات سامنے آگئیں، اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی صلاحیتوں پر ماہرین پریشان

ویڈیو

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین