پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان نے بنگلہ دیش کے رینکون گروپ (RANCON Group) کے ساتھ پاکستان میں تیار ہونے والی ایم جی گاڑیوں کی برآمد کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے۔
معاہدے کے تحت رواں سال پاکستان میں اسمبل کی گئی 100 ایم جی گاڑیاں بنگلہ دیش برآمد کی جائیں گی، جبکہ آئندہ ۴سوں کے دوران مجموعی طور پر 5 ہزار 800 گاڑیاں بنگلہ دیش بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ALHAMDULILAH Proud moment for Pakistan’s auto industry!
MG JW Automobile has signed an MoU with Bangladesh’s RANCON Group in Islamabad.
We aim to export 5,000+ locally assembled MG vehicles in the coming years, starting with the first shipments this year.
A big step forward for… pic.twitter.com/SsTgKyacsB— Javed Afridi (@JAfridi10) July 30, 2026
ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ حکومت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان کو برآمدات پر مبنی اور صنعتی لحاظ سے مسابقتی معیشت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آٹو پائلٹ موڈ کی خرابی، 20 لاکھ گاڑیاں واپس منگوانے پر ٹیسلا کے خلاف تحقیقات کا آغاز
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے پاکستان کو لاکھوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا اور یہ حکومت کی برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کی پالیسی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ایسی پالیسیاں اختیار کر رہی ہے جو برآمدات کے فروغ، مقامی صنعت کے استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار دوست ماحول کی تشکیل میں معاون ثابت ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک جامع آٹو پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس کا مقصد گاڑیوں کی برآمدات بڑھانا، مقامی پرزہ سازی (لوکلائزیشن) کو فروغ دینا اور آٹو موبائل صنعت کی پیداواری صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت نے معیار، مقامی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، جس کے باعث پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں عالمی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:5 سال پرانی امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی ختم ہونے سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
معاون خصوصی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسی صنعتوں کی ہر ممکن سرپرستی جاری رکھے گی جو برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کر رہی ہیں۔













