سندھ اور بلوچستان حکومت پانی کی تقسیم پر متفق، فارمولا کیا ہوگا؟

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے گرین بیلٹ میں پانی کی شدید قلت کے مسئلے کے حل کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر صوبائی حکومت کے اعلیٰ سطحی وفد نے سندھ حکومت سے اہم مذاکرات کیے، جن میں سندھ نے بلوچستان کے حصے کا پانی ہر صورت فراہم کرنے اور پٹ فیڈر و کھیر تھر کینال میں اضافی پانی چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید پڑھیں:گرمی کی شدت برقرار، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارش کا امکان

صوبائی وزیر آبپاشی صوبائی وفد کے ہمراہ سکھر میں محکمہ آبپاشی سندھ کے حکام سے ملاقات کی، جس کے بعد کراچی میں صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف احمد کھیوڑو سے باضابطہ مذاکرات کیے۔

4 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں بلوچستان کے وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ 1971 کے معاہدے کے مطابق بلوچستان کو اس کا مکمل آبی حصہ فراہم کیا جائے۔ وفد نے نشاندہی کی کہ معاہدے کے تحت پٹ فیڈر کینال کے لیے 6,700 کیوسک جبکہ کھیر تھر کینال کے لیے 2,400 کیوسک پانی مختص ہے، تاہم حالیہ قلت کے باعث بلوچستان کے وسیع زرعی علاقے، بالخصوص گرین بیلٹ، اور ہزاروں زمیندار و کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

مذاکرات کے بعد سندھ کے وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بلوچستان کے وفد کو یقین دلایا کہ صوبے کے حصے کا پانی ہر صورت فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال میں شارٹ فال پورا کرنے کے لیے 700 کیوسک جبکہ کھیر تھر کینال میں 1,000 کیوسک اضافی پانی فراہم کیا جائے گا تاکہ زرعی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

دونوں صوبوں کے وفود نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پانی کی تقسیم سے متعلق مسائل کو باہمی مشاورت اور مسلسل رابطوں کے ذریعے حل کیا جائے گا تاکہ آئندہ اس نوعیت کی صورتحال سے بچا جا سکے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو صوبے کے مفادات سب سے زیادہ عزیز ہیں اور پانی کی قلت کے مسئلے پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:عید ایام: سندھ اور بلوچستان کے صارفین کے لیے گیس کب سے کب تک دستیاب ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ زمینداروں اور کسانوں کو درپیش مشکلات کا جلد از جلد خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی نے خصوصاً چاول سمیت دیگر فصلوں کو متاثر کیا ہے، تاہم سندھ حکومت کی یقین دہانی کے بعد امید ہے کہ جلد پانی کی فراہمی بہتر ہوگی اور کاشتکاروں کو ریلیف ملے گا۔

میر محمد صادق عمرانی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں، کیونکہ بلوچستان حکومت صوبے کے آبی حقوق کے تحفظ اور کسانوں کے مفادات کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کنگنا رناوت نے بھارت کی جین زی جنریشن کو ’گٹر جنریشن‘ کیوں کہا؟

’پاکستان کے لیے اپنی بہترین کارکردگی دکھاؤں گا‘ ارشد ندیم کی فائنل کے لیے دعاؤں کی اپیل

خواجہ آصف کا علیم خان کو استعفیٰ دینے اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا مشورہ

آج اور کل ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

آئی سی سی کا ورلڈ کپ 2027 کے لیے نیا 3 مرحلوں پر مشتمل فارمیٹ کیا ہے؟

ویڈیو

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘