فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے ہتھیار ختم کرنے کے دعوے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا اسرائیل اپنے سابقہ وعدے پورے کرتا ہے یا نہیں؟۔
حماس کے مطابق مکمل ’غیر مسلح‘ ہونے کا معاہدہ تب ہی ممکن ہے جب امریکا اور اسرائیل جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کریں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ کا دعویٰ ’امن کی جانب اہم قدم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل ٹروتھ پر کہا تھا کہ امریکا کی سربراہی میں قائم ’بورڈ آف پیس‘ نے حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حماس کی جانب سے ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل، غزہ بورڈ آف پیس کا ردعمل سامنے آگیا
انہوں نے اسے اپنے 20 نکاتی منصوبے کے نفاذ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جس کا مقصد جنگ ختم کرنا اور فلسطین میں نئی حکومت قائم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ یہ پائیدار امن اور سلامتی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج غیر مسلح کرنے کے عمل کی تکمیل کے ساتھ ہی غزہ سے انخلا کریں گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس نئی فلسطینی پولیس فورس کے ہمراہ علاقے کی سیکیورٹی یقینی بنائے گی۔
حماس کی شرط، پہلے اسرائیل عمل کرے
حماس کے عہدیدار غازی حماد نے جمعہ کو برطانوی اخبار روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم اس وقت تک ہتھیار نہیں چھوڑے گی جب تک اسرائیل غزہ میں حملے بند نہیں کرتا۔
امداد اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں اضافہ نہیں کرتا اور گزشتہ برس طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اپنی افواج واپس نہیں بلاتا۔ انہوں نے کہا کہ ثالثوں پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل معاہدے کی پابندی کرے۔
مزید پڑھیں: غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن، وزیراعظم شہباز شریف کا بورڈ آف پیس سے خطاب
واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل نے گزشتہ سال اکتوبر میں ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ قائم کیا گیا تاکہ غیر مسلح کرنے کے عمل کی نگرانی، کثیر الملکی استحکامی فورس کی تعیناتی اور اسرائیلی انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔
حماس کا ہتھیار ختم کرنا معاہدے کے دوسرے مرحلے میں مرکزی رکاوٹ رہا ہے، جس میں غزہ کی تعمیرِ نو بھی شامل ہے۔
مذاکرات کئی ماہ تک تعطل کا شکار رہے کیونکہ حماس نے اپنے ہتھیار حوالے کرنے کے لیے متعدد شرائط عائد کیں، اور مئی میں تنظیم نے مؤقف اپنایا تھا کہ ہتھیاروں کی حوالگی کا تعلق فلسطینی ریاست کے قیام کے فریم ورک سے جوڑا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین میں پائیدار امن کے لیے بورڈ آف پیس پر دستخط، پاکستان کی اصولی اور فعال سفارت کاری کا اظہار
قاہرہ میں زیرِ بحث روڈ میپ کے تحت ’ایک اتھارٹی، ایک قانون، ایک ہتھیار‘ کے اصول پر امریکی حمایت یافتہ ’نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کو مرحلہ وار اختیارات منتقل کیے جانے ہیں، جس میں سرنگوں، اسلحہ ذخائر اور ہتھیار ساز تنصیبات کے خاتمے کا عمل بھی شامل ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ٹرمپ کے اعلان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ ٹرمپ نے ثالثوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر کو غزہ سے جو خطرہ پیدا ہوا تھا اسے دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔













