فلسطین میں پائیدار امن کے لیے بورڈ آف پیس پر دستخط، پاکستان کی اصولی اور فعال سفارت کاری کا اظہار

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر شمولیت اختیار کی۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی بحران کا خاتمہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطین کی منظم، جامع اور پائیدار تعمیرِ نو ہے۔

بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور فلسطینی عوام کو باعزت اور محفوظ زندگی کی فراہمی شامل ہے۔

اس بین الاقوامی اقدام میں پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکا شامل ہیں۔ مسلم ممالک کی مؤثر شمولیت اس بات کی ضمانت سمجھی جا رہی ہے کہ فلسطینی حقوق، حقِ خود ارادیت اور ریاستی تشخص کو مرکزی حیثیت حاصل رہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے

پاکستان نے ایک بار پھر اپنے واضح اور غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ کیا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو، اور قبضے، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ہر صورت مخالفت کی جائے۔

پاکستان کا مؤقف اصولی، بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور فلسطینی عوام کی امنگوں کا عکاس ہے۔

اس موقع پر ایک اہم اور علامتی لمحہ بھی سامنے آیا جب فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو راستے میں روک کر مصافحہ کیا اور غزہ میں امن، نسل کشی کے خاتمے کی کوششوں اور فلسطینی عوام کے حق میں پاکستان کے مضبوط اور مستقل مؤقف پر شکریہ ادا کیا۔ یہ ملاقات پاکستان کی فلسطین سے دیرینہ حمایت کا عملی اعتراف قرار دی جا رہی ہے۔

بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال بھی ہوا، جبکہ امریکی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انگوٹھے کے اشارے سے سراہا۔ مبصرین کے مطابق یہ عالمی سطح پر پاکستان کی قیادت کی ہم آہنگی اور مؤثر سفارت کاری کی پذیرائی کا اظہار ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 300 ملین ڈالر سے زیادہ کے دو منصوبوں پر دستخط

واضح رہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب کسی فوجی مشن یا اسٹیبلائزیشن فورس میں خودکار شمولیت نہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے سے واضح، مستقل اور پارلیمانی و آئینی دائرہ کار کے مطابق ہے۔

پاکستان نے عالمی سیاست میں بلاک بندی سے اجتناب کرتے ہوئے ایک بار پھر توازن، اصول پسندی اور فعال سفارت کاری پر یقین کا اظہار کیا ہے، اور فلسطین کے معاملے پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے بامعنی اور تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کو دہرایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟