چینی مصنوعی ذہانت یا اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے وی فور فلیش اے پی آئی کا باضابطہ اجرا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ سیک کی نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش، مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نیا ماڈل کم کمپیوٹنگ وسائل استعمال کرتے ہوئے بھی اے آئی ایجنٹس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری فراہم کرتا ہے جس سے سافٹ ویئر ڈویلپرز کو زیادہ مؤثر اور کم لاگت والے اے آئی حل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
کمپنی کے مطابق ڈیپ سیک وی فور فلیش-0731 کا بنیادی ڈھانچہ اور سائز پہلے متعارف کرائے گئے وی فور پری ویو ماڈل جیسا ہے، تاہم اس کی پوسٹ ٹریننگ دوبارہ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں متعدد ایجنٹ بینچ مارکس میں اس کی کارکردگی تین ماہ قبل پیش کیے گئے وی فور پرو پری ویو سے بھی بہتر ہو گئی ہے۔
تکنیکی رپورٹ کے مطابق وی فور فلیش میں مجموعی طور پر 284 ارب پیرامیٹرز موجود ہیں جن میں سے 13 ارب فعال پیرامیٹرز ہیں۔ اس کے مقابلے میں وی فور پرو میں 1.6 ٹریلین مجموعی اور 49 ارب فعال پیرامیٹرز موجود ہیں۔ اس کے باوجود کمپنی کا کہنا ہے کہ کم سائز کے باوجود نئے فلیش ماڈل کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
مزید پڑھیے: چینی کمپنی ڈیپ سیک کی اپنی اے آئی چِپ بنانے کی تیاری، امریکی کمپنیوں میں ہلچل
ڈیپ سیک نے پہلی بار اپنا تیار کردہ ہارنیس نامی داخلی جانچ کا نظام بھی عوام کے سامنے پیش کیا جسے کمپنی ماڈلز کی صلاحیت جانچنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
اے جی آئی کی جانب پیشرفت
رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ کا کہنا ہے کہ کمپنی کا طویل مدتی ہدف مصنوعی عمومی ذہانت یا اے جی آئی (آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجینس) کی جانب پیشرفت ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں زبان پر مبنی ماڈلز تیار کیے گئے جبکہ اب توجہ اے آئی ایجنٹس پر مرکوز ہے۔ اس کے بعد اگلا اہم مرحلہ مسلسل سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے تاکہ اے آئی انسانوں کی طرح وقت کے ساتھ نئی معلومات سیکھ سکے اور ہر مرتبہ مکمل معلومات دوبارہ فراہم کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
اوپن اے آئی کے ڈویلپرز کو متوجہ کرنے کی کوشش
کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے فلیش ماڈل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اوپن اے آئی کے ماحولیاتی نظام پر بنائی گئی ایجنٹ ایپلی کیشنز کو نسبتاً کم لاگت کے ساتھ ڈیپ سیک پر منتقل کیا جا سکے۔
اسی طرح ماڈل کو کوڈیکس طرز کے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ ورک فلو کے مطابق بھی بہتر بنایا گیا ہے، جسے مبصرین اوپن اے آئی کے کوڈنگ ماڈلز کو براہِ راست چیلنج کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
کم لاگت والے اے آئی ماڈلز کی دوڑ تیز
ماہرین کے مطابق ڈیپ سیک کی نئی پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی صنعت میں صرف بڑے اور مہنگے ماڈلز ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر بہتر تربیت اور مؤثر تکنیکوں کے ذریعے نسبتاً چھوٹے ماڈلز بھی اعلیٰ کارکردگی دکھانے لگیں تو کم لاگت والے اے آئی حل تیار کرنے کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے جس سے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی مسابقت میں ایک نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔












