چین کی معروف مصنوعی ذہانت یا اے آئی کمپنی ڈیپ سیک اپنی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے اور جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی تیز کرنے کے لیے ایک نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی نے اپنی پہلی بیرونی فنڈنگ مکمل ہونے کے صرف ایک ماہ بعد ہی نئے سرمایہ کاری راؤنڈ کے لیے ابتدائی مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی ڈیپ سیک کی اپنی اے آئی چِپ بنانے کی تیاری، امریکی کمپنیوں میں ہلچل
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک اس نئے سرمایہ کاری راؤنڈ میں تقریباً 71 ارب ڈالر کی پری منی ویلیوایشن (سرمایہ کاری سے قبل کمپنی کی مالیت) حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی نے حال ہی میں اپنی تاریخ کی پہلی بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرتے ہوئے تقریباً 7.4 ارب ڈالر جمع کیے تھے جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 52 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
ڈیپ سیک اس وقت چین کی سب سے نمایاں اے آئی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ گزشتہ سال اس کے وی تھری اور آر ون ماڈلز نے سلیکون ویلی میں بھی توجہ حاصل کی تھی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کی صلاحیتوں سے متعلق امریکا کے کئی تصورات کو چیلنج کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی جدید اے آئی چپس کے حصول پر بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اپنی کمپیوٹنگ طاقت میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
اس سے قبل رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ ڈیپ سیک اپنی مصنوعی ذہانت کی چپ تیار کرنے پر بھی کام کر رہی ہے، جس کا مقصد اینویڈیا اور ہواوے کی چپس پر انحصار کم کرنا ہے۔ کمپنی اب تک انہی چپس کی مدد سے اپنے مقبول اے آئی ماڈلز کی تربیت اور آپریشنز انجام دیتی رہی ہے۔
ڈیپ سیک اس وقت اپنی توجہ اے آئی ایجنٹس کی تیاری پر بھی مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یہ ایسے خودکار مصنوعی ذہانت کے نظام ہوتے ہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈیپ سیک کا نیا اے آئی ماڈل وی4 متعارف، لاگت میں نمایاں کمی کا دعویٰ
ماہرین کے مطابق ڈیپ سیک کا نیا سرمایہ کاری منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے نہ صرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بلکہ انتہائی طاقتور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر بھی ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔














