بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران نعرے لگانے والی ایک 15 سالہ لڑکی کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے بعد اس کی معافی کی ویڈیو سامنے آگئی، جس نے اظہارِ رائے کی آزادی اور ریاستی کارروائی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں لڑکی ہاتھ جوڑ کر کہتی ہے کہ وہ احتجاج کے دوران بعض افراد کے اثر میں آکر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نامناسب زبان استعمال کر بیٹھی۔ اس نے کہا کہ میں صرف 15 سال کی ہوں، مجھ سے غلطی ہوئی، میں پورے ملک سے معافی مانگتی ہوں، براہِ کرم مجھے معاف کر دیں۔
She isn’t Ruchika Singh. Her voice and diction are totally different from the girl who abused PM Modi during #CPJ protest. pic.twitter.com/7VPcTsxYqE
— Pramod Kumar Singh (@SinghPramod2784) August 1, 2026
رپورٹس کے مطابق اگرچہ ابتدائی ایف آئی آر میں لڑکی کی عمر 25 سال درج کی گئی تھی، تاہم معافی کی ویڈیو میں اس نے اپنی عمر 15 سال بتائی ہے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
طالبہ کے خلاف شکایت نوئیڈا میں درج کرائی گئی، جس کے بعد پولیس نے زیرو ایف آئی آر درج کرکے مقدمہ نئی دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے منتقل کر دیا۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لڑکی کے بیانات نے وزیر اعظم کے منصب کی توہین کی اور عوامی امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ پیدا کیا۔
یہ بھی پڑھیں:مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام میں احتجاج کے دوران اپنے خلاف نعرے لگانے والے نوجوانوں کو ’گمراہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ انتقامی رویہ اختیار کرنے کے بجائے انہیں درست راستہ دکھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گالیاں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں اور وہ ذاتی طور پر ان نوجوانوں کو معاف کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک کم عمر طالبہ کے خلاف مقدمہ درج ہونا اور بعد ازاں اس کی معذرت کی ویڈیو سامنے آنا بھارت میں اختلافِ رائے، احتجاج کے حق اور حکومتی ردِعمل کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔














