وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی میں وفاقی ڈسپنسری کو جدید 24 گھنٹے فعال اسپتال میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ 4 ماہ میں مکمل کر کے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال فعال ہونے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد کو معمولی بیماریوں اور ہنگامی طبی امداد کے لیے جناح، سول، عباسی شہید، آغا خان اور لیاقت نیشنل جیسے بڑے اسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔
کراچی میں وفاقی ڈسپنسری کو جدید اسپتال میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ وفاقی طبی مراکز غیر فعال یا محدود پیمانے پر استعمال ہو رہے تھے، تاہم اب انہیں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ان کے اپنے علاقوں میں معیاری علاج میسر آ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی اسپتالوں کے لیے پائیدار نظام تشکیل دے دیا، اب پہلے سے بہتر خدمات ملیں گی، مصطفیٰ کمال
انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، اس لیے وفاق صرف ان اداروں پر سرمایہ کاری کر سکتا ہے جو اس کے انتظام میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس اختیار ہوتا تو وہ کراچی اور سندھ بھر میں مزید اسپتال قائم کرتے، تاہم موجودہ آئینی دائرہ کار میں وفاق صرف اپنی زیر نگرانی طبی تنصیبات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان منصوبوں کی منصوبہ بندی، پی سی ون کی تیاری اور منظوری کا مرحلہ مکمل کیا گیا، جو ایک طویل اور پیچیدہ عمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چار ماہ میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا اور علاقے کے ساتھ ساتھ گرد و نواح کے رہائشی بھی چوبیس گھنٹے طبی سہولتوں سے مستفید ہو سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں ایمرجنسی، ڈاکٹروں کی دستیابی، ادویات، تشخیصی ٹیسٹ اور دیگر بنیادی طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر مریضوں کے لیے 30 بستروں پر مشتمل سیکنڈری کیئر اسپتال بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہر شہری کو ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ دنیا بھر میں صحت کا نظام 3 درجوں، یعنی پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری کیئر پر مشتمل ہوتا ہے، مگر پاکستان میں پرائمری اور سیکنڈری کیئر کی کمی کے باعث معمولی بیماریوں کے مریض بھی براہ راست بڑے تدریسی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جس سے ان پر غیر ضروری دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف رپورٹس کے مطابق بڑے اسپتالوں میں آنے والے تقریباً 70 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج پرائمری یا سیکنڈری کیئر مراکز پر ممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جناح، سول، عباسی شہید، آغا خان اور دیگر بڑے اسپتالوں کی ایمرجنسی اور دیگر شعبے شدید دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے پرائمری اور سیکنڈری کیئر مراکز کے قیام سے بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہوگا، جبکہ شہریوں کو اپنے علاقوں میں بروقت اور معیاری طبی سہولتیں میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج اس منصوبے کے ذریعے اسی جدید صحت نظام کی عملی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔














