ہارورڈ میڈیکل اسکول کی قیادت میں ہونے والی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خون کا ایک سادہ ٹیسٹ الزائمر اور یادداشت کی خرابی کے خطرے کی پیشگی نشاندہی 5 سے 10 سال پہلے کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں بروقت علاج، مریضوں کی نگرانی اور نئی ادویات کی آزمائش میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی سربراہی میں کی گئی نئی تحقیق کے مطابق خون میں موجود ایک مخصوص بایو مارکر p-tau217 کی مقدار جانچ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بظاہر صحت مند بزرگ افراد آئندہ 5 سے 10 سال کے دوران الزائمر یا یادداشت کی خرابی کا شکار ہونے کے کتنے امکانات رکھتے ہیں۔
🔬 Did you catch the exciting research news earlier this month? A study reported at #AAIC26 suggests a blood test may help predict future Alzheimer’s risk before memory or thinking problems begin.
Watch the study's senior author Reisa Sperling, Ph.D., break down the research. pic.twitter.com/bopmQEhaut
— Alzheimer's Association Greater Indiana Chapter (@AlzIndiana) July 31, 2026
یہ تحقیق لندن میں ہونے والی الزائمر ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی گئی، جبکہ اس کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں بھی شائع کیے گئے۔
تحقیق کے دوران تقریباً 2 ہزار 700 ایسے افراد کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 70 سال تھی اور جن میں تحقیق کے آغاز پر یادداشت کی کوئی نمایاں خرابی موجود نہیں تھی۔ ان افراد کی صحت کا تقریباً 10 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اعصابی درد کی دوا ’گیباپینٹن‘ کے دماغی صحت پر مضر اثرات کا انکشاف
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں p-tau217 کی سطح زیادہ تھی، ان میں آئندہ 10 برس کے دوران ذہنی صلاحیت متاثر ہونے کا امکان 78 فیصد تک تھا، جبکہ تقریباً ایک تہائی افراد میں یہ مسئلہ 5 سال کے اندر پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ دوسری جانب جن افراد میں اس پروٹین کی مقدار معتدل حد تک زیادہ تھی، ان میں بھی 10 برس کے دوران یادداشت کی خرابی کا خطرہ 45 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق p-tau217 ایک ایسا پروٹین ہے جو دماغ میں نقصاندہ ’ٹاؤ‘ پروٹین کے جمع ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، جو الزائمر اور یادداشت کی کمزوری سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
Tests that can detect early markers for Alzheimer’s disease up to 20 years before diagnosis will soon be available via a new diagnostic centre serving patients across the country. Here's more: https://t.co/KNTAKvY1K7 pic.twitter.com/EeyE1P77oR
— The Australian (@australian) July 30, 2026
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریچل بکلی کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں ان نتائج کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ خون کا ٹیسٹ ایسے افراد کی شناخت میں مدد دے سکتا ہے جنہیں الزائمر سے بچاؤ کی نئی ادویات کے کلینیکل ٹرائلز میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بیماری کے ابتدائی مرحلے میں علاج دستیاب ہونے کی صورت میں یہ ٹیسٹ مریضوں کی نگرانی، علاج کے فیصلوں اور اہل خانہ کی رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
محققین نے واضح کیا کہ صرف p-tau217 کی بنیاد پر کسی فرد کے مستقبل کی مکمل پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ عمر، جینیاتی عوامل، گردوں کی صحت اور نسلی پس منظر جیسے دیگر عوامل بھی الزائمر کے خطرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔














