پاکستان نے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں عالمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے، ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی فراہم کرنے اور اے آئی کو مشترکہ ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدت اور عالمی گورننس کو ساتھ لے کر چلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 2026 ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس پر بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کی قیادت میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس اور ہائی لیول اجلاس کی کامیاب میزبانی کو سراہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔
Remarks by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan to the UN
At the Briefing on the 2026 World Artificial Intelligence Conference and High-Level Meeting on Global AI Governance
(31 July 2026)
*****Excellencies,
Distinguished colleagues,
I thank… pic.twitter.com/Q6lnm3zigx
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 31, 2026
انہوں نے کہا کہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کا قیام بروقت اور اہم پیشرفت ہے، جو بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون، قومی استعداد بڑھانے اور مصنوعی ذہانت کو عدم مساوات بڑھانے کے بجائے مشترکہ ترقی کا ذریعہ بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اس تنظیم کا بانی رکن بننے پر خوش ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف مئی 2026 میں اپنے دورۂ چین کے دوران اس اقدام کی حمایت کا اظہار کر چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو صرف تیار شدہ اے آئی مصنوعات نہیں بلکہ ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، جدید ماڈلز، اوزار اور تکنیکی معاونت تک بھی رسائی درکار ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی خود تیار اور استعمال کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان سرزمین سے دہشتگردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ، عاصم افتخار
پاکستانی مندوب نے عالمی تعاون کے لیے 3 اہم ترجیحات بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق پہلی ترجیح قابل اعتماد سرحد پار ڈیٹا تعاون، کثیر لسانی ڈیٹا سیٹس، بہتر کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور اوپن سورس اے آئی ماڈلز تک رسائی ہے۔ دوسری ترجیح مصنوعی ذہانت کو زراعت، صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور عوامی خدمات کی فراہمی جیسے شعبوں میں عملی ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے، جبکہ تیسری ترجیح عالمی معیار، قواعد، تحفظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مشترکہ گورننس کا فروغ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان دوست، مشترکہ خوشحالی کی ضامن اور جامع بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آگے بڑھے، اور اس مقصد کے لیے پاکستان چین، گروپ آف فرینڈز اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔














