لندن: آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے خام تیل کی برآمد کے متبادل راستے تیزی سے تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس کے تحت متعدد نئی پائپ لائنوں کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے یا پہلے سے موجود منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم
بین الاقوامی توانائی ایجنسی یعنی آئی ای اے کے مطابق 2025 کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے یومیہ تقریباً 1 کروڑ 49 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل برآمد کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اس عرصے میں یومیہ تقریباً 16 لاکھ 90 ہزار بیرل تیل برآمد کیا اور امکان ہے کہ وہ طویل مدت تک آبنائے ہرمز ہی پر انحصار کرے گا کیونکہ اس آبی گزرگاہ پر اس کا مؤثر کنٹرول موجود ہے۔
Bloomberg’s report that some shuttle operators are again moving volumes near the earlier 4 million to 7 million barrels per day range appears to conflict with Kpler’s tracking.
➤ Over the past seven days, Kpler recorded 18 tankers exiting the Strait of Hormuz, five linked to… https://t.co/SSvPLctLXN
— Drop Site (@DropSiteNews) July 31, 2026
برطانوی شپ بروکریج کمپنی بی آر ایس شپ بروکر کے ماہر اینڈریو ولسن کے مطابق ایران اپنی زیادہ سے زیادہ پیداوار جاری رکھتے ہوئے چین کو تیل برآمد کرتا رہے گا، اس لیے اس کے لیے متبادل راستوں کی فوری ضرورت نہیں۔
دوسری جانب ایران کے علاوہ خلیجی ممالک کی یومیہ 1 کروڑ 32 لاکھ 60 ہزار بیرل برآمدات میں سے تقریباً 1 کروڑ 15 لاکھ بیرل تیل موجودہ پائپ لائنوں کی مکمل استعداد استعمال کرنے اور مجوزہ منصوبے مکمل ہونے کے بعد متبادل راستوں سے منتقل کیا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
جنگ سے قبل متحدہ عرب امارات یومیہ تقریباً 11 لاکھ بیرل خام تیل ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن یعنی ایڈکوپ کے ذریعے فجیرہ کی بندرگاہ تک منتقل کرتا تھا، جو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر خلیج عمان تک پہنچتی ہے۔
اس پائپ لائن کی مجموعی گنجائش 18 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جس میں مزید 7 لاکھ بیرل یومیہ اضافی صلاحیت موجود ہے۔
امارات نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ موجودہ پائپ لائن کے متوازی ایک دوسری پائپ لائن کی تعمیر تیز کر رہا ہے، جو ملک کے شمالی ساحل تک جائے گی اور آبنائے ہرمز کے شمال میں پیدا ہونے والے خام تیل کو بھی متبادل راستے سے برآمد کرنے کی سہولت دے گی۔
ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق اس منصوبے سے فجیرہ کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت دوگنی ہو جائے گی اور اسے آئندہ سال فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: چین نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی محکمہ خارجہ نے جولائی میں بتایا تھا کہ عراق کے تیل کے ذخائر کو شام کے بحیرہ روم کے ساحل سے ملانے والی اہم پائپ لائن بحال کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
واشنگٹن کے مطابق ایک بین الاقوامی کنسورشیم اس منصوبے کے تکنیکی اور مالیاتی امور کی نگرانی کر رہا ہے، جس کی ابتدائی گنجائش 20 لاکھ بیرل یومیہ ہوگی۔
تاہم اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، جبکہ سیاسی اور سرمایہ کاری سے متعلق مشکلات اس میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں۔













