مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کے حلقوں میں بھرپور انتخابی سرگرمیوں کے بعد پولنگ، عوام کا جمہوری نظام پر بھرپور اعتماد

اتوار 2 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے کی پولنگ آج مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں قریباً 46 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں بھی صبح سے ووٹرز کی پولنگ اسٹیشنوں پر آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں مرحلوں میں عوام کی بھرپور شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیری عوام سیاسی فیصلوں کے لیے جمہوری اور آئینی عمل پر اعتماد رکھتے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ بیلٹ بکس کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: عوام نے ووٹ کے ذریعے انتشار کی سیاست مسترد کر دی

دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل مظفرآباد، جہلم ویلی اور نیلم کے اضلاع کئی ہفتوں تک انتخابی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس، استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بڑے جلسے، انتخابی ریلیاں، کارنر میٹنگز اور گھر گھر رابطہ مہم چلائی۔ امیدواروں نے ووٹرز کے سامنے اپنے منشور، ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل پیش کیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مختلف جماعتوں کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ ضرور دیکھنے میں آیا، تاہم تمام جماعتوں نے اپنی سیاسی طاقت کا امتحان عوام کی عدالت میں پیش کیا۔ اب فیصلہ ووٹر کے ہاتھ میں ہے، جو جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔

’عوام انتخابی عمل سے لاتعلق نہیں‘

میرپور ڈویژن میں ہونے والے پہلے مرحلے میں قریباً 46 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کو بھی سیاسی مبصرین اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ شرح اس بات کا اظہار تھی کہ عوام انتخابی عمل سے لاتعلق نہیں بلکہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں بھی پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی موجودگی اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہے کہ کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے لیے جمہوری نظام کو ہی مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مہاجر نشستیں اس بار خصوصی توجہ کا مرکز

دوسرے مرحلے کا ایک اہم پہلو مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں بھی ہیں، جنہیں اس مرتبہ غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر ووٹر اس انتخاب میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ متحرک دکھائی دے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ گزشتہ عرصے کے دوران مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے سے متعلق اٹھنے والی بحث اور مطالبات ہیں۔

اس صورتحال کے بعد مہاجرین مقیم پاکستان میں اپنی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی، جس کے باعث انتخابی مہم کے دوران بھی ان کی دلچسپی نمایاں رہی اور پولنگ کے روز بھی ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق مہاجر ووٹر اس انتخاب کو صرف امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ اپنی آئینی اور سیاسی نمائندگی کے تحفظ کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے، اسی لیے مہاجر نشستوں پر سیاسی سرگرمیاں بھی خاصی متحرک رہیں۔

’جمہوریت کا اصل حسن عوامی شرکت ہے‘

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی انتخاب کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ کون سی جماعت کتنی نشستیں حاصل کرتی ہے، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ عوام انتخابی عمل میں کس حد تک شریک ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ووٹر جب پولنگ اسٹیشن تک پہنچتا ہے تو وہ صرف ایک امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا بلکہ وہ جمہوری نظام، آئینی عمل اور عوامی نمائندگی پر اپنے اعتماد کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں پہلے مرحلے سے دوسرے مرحلے تک جاری انتخابی سرگرمیوں کو جمہوری تسلسل کی ایک مثبت علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

جمہوری عمل ہی سیاسی استحکام کی ضمانت

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سیاسی اختلافات کا حل ووٹ کی طاقت میں ہے۔ انتخابی مہم کے دوران تمام جماعتوں نے عوام سے رجوع کیا، اپنا مؤقف پیش کیا اور اب فیصلہ عوام کے سپرد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جمہوری معاشروں میں بیلٹ بکس ہی عوامی رائے کا سب سے مؤثر اظہار ہوتے ہیں، اور آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل اسی روایت کو مضبوط کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں عوام کی شرکت اور دوسرے مرحلے میں جاری پولنگ اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیری عوام سیاسی عمل کا حصہ بننے، اپنی نمائندگی کے حق کا استعمال کرنے اور جمہوری نظام پر اعتماد کے اظہار کے لیے ووٹ کو ہی سب سے مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیری مہاجرین کی 12 اسمبلی نشستیں: تاریخ، آئینی حیثیت اور موجودہ تنازع

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر نشستوں پر بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمی اور مظفرآباد ڈویژن میں بھرپور انتخابی مہم کے بعد ووٹرز کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ آزاد کشمیر میں عوام اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے بیلٹ کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں، اور یہی رویہ جمہوری نظام کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر واعظ عمر فاروق کا کالعدم ایکشن کمیٹی کو آئینہ دکھا دیا، کشمیری مہاجرین کی آئینی حیثیت تسلیم کرنے کا مطالبہ

عمر نذیر نے ’جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ پر بھارتی سرپرستی کا الزام عائد کر دیا

بھارت کی عدم شرکت کے باوجود سندھ طاس معاہدے کے تحت کارروائی جاری، پاکستان کی اہم قانونی کامیابی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بھارت سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ

امریکا کی مغربی ریاستوں میں شدید گرمی، جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ

ویڈیو

امریکا کی مغربی ریاستوں میں شدید گرمی، جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ

سیوٹا: یورپ کے خواب چکناچور، تارکین وطن مایوس ہو کر مراکش واپس لوٹنے لگے

امریکا اور ایران میں سفارتی سرگرمیاں تیز، ٹرمپ نے حملہ روکنے کا عندیہ دیدیا

کالم / تجزیہ

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ

غزہ کے بچوں کی دلدوز شاعری   

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور