ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا، حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ ہتھیار فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے بھارت پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اسلحہ کی برآمدات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے ذریعے بھارت اپنے بین الاقوامی قانونی فرائض کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
Amnesty International says India sent weapons to Israel during the war in Gaza despite the real risk that these weapons could be used in the ongoing genocide against Palestinians. Amnesty International Secretary General Agnès Callamard said that, despite having full knowledge,… pic.twitter.com/6dV8liCWyN
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) August 1, 2026
انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس بات کا مکمل علم تھا کہ اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے ہتھیار فلسطینیوں کے خلاف جاری مبینہ نسل کشی میں استعمال ہو سکتے ہیں، اس کے باوجود اسلحہ کی برآمدات جاری رکھنا تشویشناک ہے۔
ایگنیس کالمارڈ کے مطابق بھارت کا یہ طرز عمل نسل کشی سے متعلق کنونشن (Genocide Convention) اور جنیوا کنونشنز کے تحت عائد ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ بے نقاب، بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی تمام برآمدات فوری طور پر معطل کرے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔














