راولاکوٹ کے عوام محب وطن ہیں، آئیں مذاکرات سے مسئلہ حل کریں، امیر مقام

اتوار 2 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں دھرنے پر بیٹھے افراد کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایک نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری ہیں، تھے اور ہمیشہ کشمیری رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:دانش اسکولوں کا دائرہ ہر ڈویژن تک بڑھایا جا رہا ہے، کشمیر کو موٹروے سے بھی جوڑیں گے، امیر مقام

انہوں نے دھرنے میں شریک افراد کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دھرنے میں شامل تمام افراد دہشت گرد نہیں، ان میں اکثریت محب وطن لوگوں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد منفی عزائم رکھنے والوں سے خود کو الگ کریں اور حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں۔

وفاقی وزیر نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت یا حکمران جماعت کی پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں بھی راولاکوٹ کے عوام نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں، جبکہ پونچھ کے عوام سرحدوں کے محافظ ہیں اور عزت و احترام کے مستحق ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے شاہ غلام قادر کی ملاقات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ

مچل اسٹارک کا نیا ریکارڈ، بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین بولر بن گئے

روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا