برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ملک کے لیے تحریری آئین کی ضرورت کی حمایت کرتے ہوئے آئینی ڈھانچے میں وسیع اصلاحات کا اشارہ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بالآخر ایک نئے آئینی معاہدے کی جانب لے جا سکتی ہے، جس سے ملک کے انتظامی نظام کو واضح اور مستحکم بنیادیں ملیں گی۔
تحریری آئین کی ضرورت پر زور
وزیراعظم اینڈی برنہم نے اختیارات کی علاقائی سطح پر منتقلی کے اپنے منصوبوں کے تناظر میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ کو چلانے کے لیے واضح اور تحریری آئینی اصول وضع کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:نوکری کے لیے صرف آن لائن انٹرویو کافی نہیں، امیدوار کی اصل صلاحیت چھپ جاتی ہے، برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم
ان کے بقول، بنیادی نوعیت کے معاملات پر مسلسل بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ نظام میں واضح آئینی رہنمائی کا فقدان ہے۔
برنہم نے کہا کہ تحریری آئین نہ ہونے کی وجہ سے مختلف علاقوں کو اپنے بنیادی حقوق اور اختیارات کے لیے بار بار جدوجہد کرنا پڑتی ہے، جو ایک مؤثر اور متوازن نظامِ حکومت کے لیے مناسب نہیں۔
برطانیہ کا منفرد آئینی نظام
دنیا کے بیشتر ممالک کے برعکس برطانیہ کے پاس ایک جامع تحریری آئین موجود نہیں۔ ملک کا نظام مختلف پارلیمانی قوانین، عدالتی فیصلوں، روایات اور بین الاقوامی معاہدوں کے مجموعے کے تحت چلتا ہے، جسے صدیوں کے ارتقائی عمل کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
اختیارات کی منتقلی حکومت کی ترجیح
وزیراعظم بننے کے صرف 2 ہفتے بعد ہی اینڈی برنہم نے اختیارات کو لندن سے علاقائی حکومتوں تک منتقل کرنے کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیا ہے۔
اسی سلسلے میں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انگلینڈ کے علاقائی میئرز کو اپنے علاقوں میں جمع ہونے والے ٹیکس کا ایک حصہ رکھنے کا اختیار دیا جائے گا، تاکہ مقامی حکومتیں مالی طور پر زیادہ بااختیار ہو سکیں۔
تحریری آئین پر بحث نئی نہیں
برطانیہ میں تحریری آئین کی بحث اگرچہ حالیہ برسوں میں زیادہ نمایاں ہوئی، تاہم سابق وزیراعظم گورڈن براؤن اس خیال کے ابتدائی حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اینڈی برنہم بھی ان کی حکومت میں بطور وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ جان ہیلی پر سب کی نظریں، اینڈی برنہم کے معاشی ایجنڈے کا اصل امتحان شروع
اس معاملے پر برطانوی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے 2015 میں مکمل ہونے والے 5 سالہ جائزے کے دوران مختلف تجاویز کا جائزہ لیا تھا، تاہم اس وقت تحریری آئین کے حق میں کوئی واضح قومی اتفاقِ رائے سامنے نہیں آ سکا تھا۔
عمل درآمد طویل اور پیچیدہ مرحلہ ہوگا
واضح رہے کہ اگر برنہم حکومت تحریری آئین کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے تو یہ کئی برسوں پر محیط ایک پیچیدہ عمل ہوگا، جس کے لیے وسیع عوامی مشاورت، اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن اور مختلف سیاسی و آئینی اداروں کے درمیان اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔
آئینی اصلاحات کی نئی بحث
برطانیہ، جس میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ شامل ہیں، میں 1990 کی دہائی کے آخر میں اہم آئینی اصلاحات کے تحت ایڈنبرا، کارڈف اور بیلفاسٹ میں خودمختار پارلیمانیں قائم کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کو سرکٹ بریکر کی ضرورت ہے، نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا پہلا خطاب، مہنگائی میں ریلیف کا اعلان
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انگلینڈ آج بھی یورپ کے سب سے زیادہ مرکزی نظامِ حکومت رکھنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے باعث اختیارات کی مزید نچلی سطح تک منتقلی اور آئینی اصلاحات کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔














