برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم اینڈی برنہم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب ملک کی سیاسی اور کاروباری حلقوں کی توجہ نئے وزیر خزانہ جان ہیلی پر مرکوز ہوگئی ہے جنہیں ایک ایسے وقت میں معیشت سنبھالنے کی ذمہ داری ملی ہے جب حکومت کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نئے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کا پہلا بڑا اقدام، بجلی کے بلوں پر ٹیکس ختم کرنے کا اعلان
اینڈی برنہم نے برطانیہ کے گزشتہ 10 برسوں میں 7ویں وزیر اعظم کے طور پر منصب سنبھالا جبکہ پیر کی شب جان ہیلی کو باضابطہ طور پر چانسلر آف دی ایکسچیکر (وزیر خزانہ) مقرر کیا گیا۔
برطانیہ کی معیشت کے لیے بڑا امتحان
معاشی ماہرین کے مطابق جان ہیلی کو ایک مشکل چیلنج درپیش ہے۔ انہیں ایک طرف اینڈی برنہم کے نسبتاً بائیں بازو کے معاشی وژن پر عمل درآمد کرنا ہے جبکہ دوسری جانب مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد
سابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے اقتدار کے آخری دنوں میں جب اینڈی برنہم کو ان کا ممکنہ جانشین قرار دیا جانے لگا تو برطانوی بانڈ مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ نئی حکومت زیادہ سرکاری اخراجات اور قرض لینے کی پالیسی اختیار کر سکتی ہے۔
سابق حکومت کی مالیاتی پالیسی
سابق وزیر خزانہ ریچل ریوز نے اپنے دور میں سرکاری اخراجات اور قرضوں کو محدود رکھنے کے لیے سخت مالیاتی اصول اپنائے تھے۔ انہوں نے اپنی آخری تقاریر میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پالیسیوں کے باعث سرکاری قرض لینے کی شرح میں نمایاں کمی آئی اور معاشی ترقی کو فروغ ملا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون میں حکومتی قرضے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی کم ہوئے جبکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور اخراجات میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے باوجود اپریل سے جون تک کا مالی خسارہ سنہ 1990 کی دہائی کے بعد 10ویں بلند ترین سطح پر رہا جبکہ برطانیہ کا مجموعی سرکاری قرض ملکی جی ڈی پی کے تقریباً 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
اسٹارمر حکومت پر تنقید
کیئر اسٹارمر اور ان کی حکومت کو بعض معاشی فیصلوں پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا جن میں کاروباری اداروں پر نیشنل انشورنس ٹیکس میں اضافہ اور فلاحی اصلاحات میں نرمی شامل تھی جسے حکمران جماعت کے ارکان کو مطمئن کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
اینڈی برنہم کے بڑے وعدے
اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالتے ہی سماجی نگہداشت کے نظام میں اصلاحات، ریکارڈ تعداد میں سرکاری رہائشی منصوبے شروع کرنے اور مہنگائی سے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خود کو کاروبار دوست وزیرِاعظم قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاری کے فروغ کا بھی عزم ظاہر کیا ہے۔
بجلی کے بلوں پر بڑا ریلیف
منگل کو اینڈی برنہم اور جان ہیلی نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ اکتوبر سے گھریلو بجلی کے بلوں پر عائد 5 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرکے صفر کر دیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس فیصلے پر 2026-27 میں تقریباً 85 کروڑ پاؤنڈ لاگت آئے گی جسے سابق حکومت کے ڈیجیٹل آئی ڈی پروگرام کو ختم کرکے پورا کیا جائے گا۔ اس پروگرام پر آئندہ 3 برسوں میں تقریباً 1.8 ارب پاؤنڈ خرچ ہونے تھے۔
جان ہیلی نے کہا کہ طویل عرصے سے لاکھوں خاندان مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں اور آج بجلی پر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ انہیں بلوں میں ریلیف دے گا اور سردیوں سے قبل کچھ مالی سہارا فراہم کرے گا۔
دفاعی اخراجات بھی ترجیح
جان ہیلی کی تقرری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ وہ چند ہفتے قبل کیئر اسٹارمر کی حکومت میں وزیر دفاع کے عہدے سے استعفیٰ دے چکے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ حکومت قومی دفاع کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم کرنے پر آمادہ نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خصوصاً ایسے وقت میں جب نیٹو اپنے رکن ممالک سے دفاعی اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے وزیر خزانہ بننے کے بعد جان ہیلی دفاعی بجٹ میں اضافے کو بھی ترجیح دے سکتے ہیں
مالیاتی منڈیوں کا محتاط ردعمل
برطانوی بانڈ مارکیٹ نے جان ہیلی کی تقرری پر محتاط مگر نسبتاً مثبت ردعمل دیا ہے۔ منگل کو سرکاری بانڈز کی پیداوار (ییلڈ) میں کمی دیکھی گئی جسے سرمایہ کاروں کے اطمینان کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کی ’افسر‘ بلی کی جانب سے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا استقبال، اپنی پسند ناپسند سے بھی آگاہ کردیا
تاہم گزشتہ ایک ماہ کے دوران برطانیہ کے 10 اور 30 سالہ سرکاری بانڈز کی ییلڈ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی ایک وجہ ایران جنگ کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑنے والے اثرات بھی بتائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
سرمایہ کاری فنڈ پولر کیپیٹل یوکے ویلیو اپورچونٹیز فنڈ کے منیجر جارج گوڈبر کا کہنا ہے کہ اینڈی برنہم کی نسبتاً بائیں بازو کی معاشی سوچ سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
ان کے مطابق اگر حکومت زیادہ اخراجات اور کم مالیاتی نظم و ضبط کی پالیسی اپناتی ہے تو اس سے شرحِ سود اور قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں کے رہائشی قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ پر تقریباً 3 کھرب پاؤنڈ کا قرض موجود ہے، اس لیے آخرکار مالیاتی منڈیاں ہی حکومت کو یہ طے کرنے پر مجبور کریں گی کہ وہ کتنے اخراجات برداشت کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کو نیا وزیراعظم مل گیا، اینڈی برنہم نے شاہ چارلس سے ملاقات کے بعد حکومت سنبھال لی
ان کا کہنا ہے کہ جب قرض اتنا زیادہ ہو تو پالیسی کا رخ حکومت نہیں بلکہ قرض دینے والے طے کرتے ہیں۔













