کراچی کے ابھرتے ہوئے کاروباری شخصیت میر رضا علی خان کی پراسرار موت کی تحقیقات میں کئی اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ پولیس کو اگرچہ اب تک جمع ہونے والے شواہد خودکشی کے امکان کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم تفتیش کار اس نتیجے پر مکمل طور پر مطمئن نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کیس جلد منطقی انجام تک پہنچنے کی امید ہے۔
25 سالہ میر رضا علی خان کی لاش سینے پر گولی لگنے کے زخم کے ساتھ گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔ وہ 2 روز قبل پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں واقع اپنے گھر سے لاپتا ہوئے تھے اور اہل خانہ نے ان کے اغوا کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 30 اگست کو شادی تھی، آج جنازہ اٹھ گیا، میر رضا علی کے قتل نے کراچی کو کیوں ہلا کر رکھ دیا؟
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق میر رضا علی خان اپنے کاروبار میں لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کر رہے تھے اور مختلف سرمایہ کاروں کی رقوم بھی واپس کرنا تھیں۔ انہوں نے ایک سرمایہ کار سے 3 کروڑ روپے قرض بھی مانگا تھا، تاہم ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔ سرمایہ کار کے مطابق میر رضا نے اس سے کہا تھا کہ ان کے ذہن میں عجیب خیالات آ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق میر رضا حسب معمول اپنی دکان بند کرنے کے بعد گھر آئے، پھر دوبارہ دفتر جاکر اپنا پستول لیا اور واپس گھر پہنچے۔ انہوں نے اپنی گاڑی اور گھر کی چابیاں وہیں چھوڑ دیں، گھڑی اور کچھ نقد رقم والدہ کے لیے رکھ دی، جبکہ اپنے آئی فون کا تمام ڈیٹا بھی خود حذف کردیا۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ انہوں نے آن لائن ٹیکسی بک کی، ڈرائیور سے اپنا پسندیدہ گانا چلانے کو کہا اور کرائے سے دگنی رقم ادا کی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق گلستانِ جوہر میں جہاں انہیں اتارا گیا، وہاں وہ اکیلے گھومتے ہوئے دکھائی دیے اور ان کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نظر نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر معروف تاجر قتل
پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا ڈیٹا حذف کرنے کے بعد وہ آف لائن ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ان کا موبائل فون جائے وقوعہ کے قریب سے کسی نامعلوم شخص کو ملا، جس نے اس میں سم ڈال کر استعمال کیا۔ پولیس نے موبائل کی ٹریسنگ کے بعد اس شخص کو حراست میں لے کر فون برآمد کرلیا۔
تفتیش کے دوران مقتول کے پستول کا ہولسٹر جائے وقوعہ کے قریب ایک درخت سے لٹکا ہوا ملا، تاہم پستول تاحال برآمد نہیں ہو سکا۔ پولیس کا خیال ہے کہ موبائل فون کی طرح اسلحہ بھی وہاں سے گزرنے والا کوئی شخص اٹھا کر لے گیا ہوگا۔
اگرچہ بیشتر شواہد خودکشی کے امکان کو تقویت دیتے ہیں، تاہم تفتیش کاروں کو 3 اہم سوالات کا سامنا ہے۔ پہلا یہ کہ میر رضا گلستانِ جوہر کے اسی مقام پر کیوں گئے؟ دوسرا یہ کہ پستول کہاں گیا؟ اور تیسرا یہ کہ فرانزک معائنے میں گولی قریب سے چلنے کی تصدیق ہوئی، لیکن ان کے ہاتھوں پر بارود کے ذرات نہیں ملے، جو عام طور پر خود گولی چلانے کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تاجر رہنما عامر اعوان کے قتل میں منصور خان گینگ ملوث، ملزمان کو گرفتار کرلیا، طلال چوہدری
پولیس کا کہنا ہے کہ لاش جزوی طور پر گل چکی تھی، اس لیے ممکن ہے کہ بارود کے ذرات ضائع ہوگئے ہوں، تاہم اس پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔
تحقیقات کے دوران مقتول کا کال ریکارڈ، دوستوں اور اہل خانہ سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، جبکہ دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی تفصیلی تجزیہ جاری ہے۔ پولیس حکام کے مطابق کیس میں جلد اہم پیشرفت متوقع ہے۔














