برطانیہ میں مردانہ نس بندی (ویسیکٹومی) کرانے والے مردوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جن میں 30 سال سے کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں
اگرچہ ماہرین اس طریقہ کار کو محفوظ اور مؤثر مانتے ہیں تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے کیونکہ بعد میں اسے واپس لینا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
برطانوی شہری الیکس ویسٹ نے اپنی عمر کی تیسری دہائی سے پہلے ویسیکٹومی کرانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے دوران ان کی اہلیہ کو انتہائی مشکل زچگی کا سامنا کرنا پڑا جس کے ذہنی اثرات وہ خود بھی برداشت نہ کر سکے۔
الیکس کے مطابق دوسرے بچے کی پیدائش نسبتاً آسان رہی لیکن اس دوران انہیں شدید گھبراہٹ کا دورہ پڑا اور بعد از پیدائش ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں وہ اور ان کی اہلیہ 4 بچوں کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ان تجربات کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ 2 بچوں پر ہی اکتفا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ مزید بچوں کا فیصلہ نہ کرنے پر سب سے زیادہ اصرار انہی کا تھا اس لیے انہیں مناسب نہیں لگا کہ مانع حمل طریقوں کی ذمہ داری صرف ان کی اہلیہ پر ڈالی جائے لہٰذا انہوں نے خود ویسیکٹومی کروانے کا فیصلہ کیا۔
ویسیکٹومی کیا ہے؟
ویسیکٹومی مردوں کے لیے ایک مستقل مانع حمل طریقہ سمجھا جاتا ہے، جس میں خصیوں سے نطفے (اسپرم) لے جانے والی باریک نالیوں کو کاٹ کر یا بند کر دیا جاتا ہے تاکہ اسپرم منی میں شامل نہ ہو سکے اور حمل نہ ٹھہرے۔
مزید پڑھیے: شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے
ماہرین کے مطابق یہ ایک مختصر آپریشن ہوتا ہے جو عموماً مقامی بے ہوشی میں چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
برطانیہ میں رجحان بڑھنے لگا
این ایچ ایس انگلینڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 کے دوران اسپتالوں اور کلینکس میں 26 ہزار 385 ویسیکٹومی کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہیں۔
35 سے 39 سال عمر کے مردوں میں یہ طریقہ کار سب سے زیادہ عام رہا، تاہم 30 سال سے کم عمر افراد میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران انگلینڈ میں تقریباً 950 ایسے مردوں نے ویسیکٹومی کرائی جن کی عمر 30 سال سے کم تھی۔
نوجوانوں سے زیادہ سوالات کیے جاتے ہیں
الیکس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کے آخری 20 برسوں میں ویسیکٹومی کا فیصلہ کیا لیکن این ایچ ایس کے ڈاکٹر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ 30 سال کی عمر تک انتظار کریں تاکہ اگر مستقبل میں رائے تبدیل ہو تو انہیں پچھتاوا نہ ہو۔
بالآخر مئی 2024 میں ان کا آپریشن لندن کے ایک کلینک میں ہوا جسے وہ انتہائی مختصر اور تقریباً بے درد تجربہ قرار دیتے ہیں۔
غیر شادی شدہ نوجوان کا مختلف فیصلہ
امریکا سے تعلق رکھنے والے سام نائٹ نے بھی کم عمری میں ویسیکٹومی کرانے کا فیصلہ کیا اگرچہ ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: دریا، جھیل یا آبشار میں نہانے جا رہے ہیں؟ پہلے یہ خطرناک حقائق ضرور جان لیں
سام کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی والد نہیں بننا چاہتے تھے لیکن ایک موقع پر ان کی ساتھی خاتون حاملہ ہو گئیں جس کے بعد حمل ضائع کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مستقل حل اختیار کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے نیویارک کے ایک یورولوجی کلینک سے رابطہ کیا جہاں ڈاکٹروں نے ان سے متعدد سوالات کیے جن میں یہ بھی شامل تھا کہ کیا وہ اتنی کم عمر میں واقعی اس فیصلے کے نتائج کو سمجھتے ہیں اور اگر مستقبل میں ان کی رائے بدل گئی تو کیا ہوگا۔
سام کا کہنا ہے کہ ان کے ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر وہ چند ماہ پہلے آتے تو شاید انہیں ویسیکٹومی کی اجازت نہ دی جاتی تاہم بعد میں ان کا مؤقف تبدیل ہو گیا تھا۔
کیا ویسیکٹومی واپس ہو سکتی ہے؟
ایم ایس آئی ری پروڈکٹیو چوائسز کی میڈیکل ڈائریکٹر اور سابق جنرل فزیشن ڈاکٹر سارہ سالکیلڈ کے مطابق ویسیکٹومی ایک محفوظ اور مؤثر مانع حمل طریقہ ہے لیکن مردوں کو فیصلہ کرنے سے پہلے تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ کلینکس میں خواہش رکھنے والے افراد کو مشاورت بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ مکمل معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کر سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ بعض صورتوں میں ویسیکٹومی کو واپس کرنے کا آپریشن ممکن ہوتا ہے لیکن اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی جبکہ برطانیہ میں ایسے آپریشن این ایچ ایس پر معمول کے مطابق دستیاب بھی نہیں ہوتے اور ان کے لیے سخت شرائط موجود ہیں۔
اسی لیے ڈاکٹروں کی جانب سے ویسیکٹومی کو مستقل فیصلہ سمجھ کر ہی اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
متبادل طریقے بھی موجود ہیں
برطانوی قومی ادارہ صحت کے مطابق مردوں کے لیے مانع حمل کے دیگر طریقے بھی موجود ہیں جن میں کنڈوم کا استعمال اور خواتین کے زرخیز دنوں کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کی زندگی، خاندانی حالات اور مستقبل کے منصوبے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کوئی بھی مستقل مانع حمل طریقہ اختیار کرنے سے پہلے اپنے شریکِ حیات اور مستند ڈاکٹر سے تفصیلی مشورہ کرنا ضروری ہے۔
زندگی کا مختلف انتخاب
سام نائٹ، جو اب 25 سال کے ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں بچوں سے کوئی نفرت نہیں اور وہ والدین بننے والوں کا احترام کرتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک والدین بننا ایک مکمل زندگی کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ وہ اپنی پوری توجہ ویڈیو گیمز کے لیے موسیقی اور آواز کی تیاری کے شعبے میں دینا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب الیکس ویسٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے کئی ماہ غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا اور ان کے نزدیک ویسیکٹومی ان دونوں کے لیے سب سے منصفانہ اور مؤثر مانع حمل طریقہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ایک تیر سے دو شکار: سیاح اب جنوبی کوریا صرف گھومنے نہیں جارہے، دوسرا اہم مقصد کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویسیکٹومی ایک محفوظ طبی عمل ہے لیکن یہ ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات طویل مدت تک رہ سکتے ہیں اس لیے اسے جذباتی کیفیت یا عارضی حالات کی بنیاد پر اختیار کرنے کے بجائے مکمل معلومات اور طبی مشورے کے بعد ہی اپنانا چاہیے۔













