جنوبی کوریا صرف خوبصورتی، کے پاپ، ڈراموں اور جدید ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ تیزی سے عالمی طبی سیاحت (میڈیکل ٹورازم) کا بھی اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا میں میٹھی ’سوربت‘ میں کٹھاس کے لیے کالی چیونٹیوں کے استعمال پر ریسٹورنٹ کے مالک کو جیل
دنیا بھر سے آنے والے ہزاروں سیاح اب اپنی سفری منصوبہ بندی میں سیر و تفریح کے ساتھ مکمل طبی معائنوں کو بھی شامل کر رہے ہیں کیونکہ یہاں کم لاگت، جدید طبی سہولیات، تیز رفتار نتائج اور انگریزی زبان میں معاونت جیسی سہولتیں دستیاب ہیں۔
امریکی شہر لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے لیپنگ چاؤ بھی ایسے ہی مسافروں میں شامل ہیں جو سیئول پہنچنے کے بعد مشہور سیاحتی مقامات کے بجائے سیدھا ایک میڈیکل سینٹر جا پہنچے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ہنگامی طبی ضرورت نہیں تھی بلکہ ان کے سفر کا باقاعدہ حصہ تھا۔
طبی معائنے سیاحتی سرگرمیوں کا حصہ بن گئے
جنوبی کوریا آنے والے غیر ملکی اب خریداری، اسٹریٹ فوڈ اور تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ، ایکسرے، اینڈوسکوپی اور حتیٰ کہ کولونوسکوپی جیسے معائنے بھی کرا رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی وزارت صحت و بہبود کے مطابق سنہ 2025 کے دوران 20 لاکھ سے زائد غیر ملکی مریضوں نے ملک کا رخ کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 72 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں زیادہ تر مریض چین، جاپان، تائیوان اور امریکا سے آئے۔
جنوبی کوریا طبی سیاحت کو برآمدی صنعت سمجھتا ہے
سیئول میں قائم میڈیکل کنسیئرج کمپنی ’ہائیمیڈی‘ کے چیف ایگزیکٹو ڈونکیو سیو کے مطابق جنوبی کوریا طبی سیاحت کو باقاعدہ برآمدی صنعت تصور کرتا ہے جسے حکومتی سطح پر خصوصی قانون سازی اور پالیسیوں کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔
لوگ جنوبی کوریا ہی کیوں جا رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ کم لاگت اور غیر معمولی تیز رفتار طبی خدمات ہیں۔
مزید پڑھیے: دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
سیئول میں قائم ٹریول پلاننگ کمپنی ’کری ای ٹرپ‘ کے سربراہ ہیمِن لی کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک میں مریضوں کو ڈاکٹر کے ریفرل، انشورنس منظوری اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ جنوبی کوریا میں ایک ہی دن کے اندر مکمل جسمانی معائنہ ممکن ہے۔
ایک ایم آر آئی کی لاگت میں مکمل طبی معائنہ، فضائی خرچ بھی کم
انہوں نے کہا کہ امریکا میں صرف ایک ایم آر آئی پر آنے والی لاگت سے جنوبی کوریا میں مکمل جسمانی طبی معائنہ کرایا جا سکتا ہے اور فضائی سفر کا خرچ شامل کرنے کے باوجود یہ نسبتاً سستا پڑتا ہے۔
عالمی درجہ بندی میں بھی نمایاں مقام
سنہ2025 کے سی ای او ورلڈ ہیلتھ کیئر انڈیکس کے مطابق جنوبی کوریا دنیا کے بہترین صحت کے نظام رکھنے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔
کوریا میڈیکل انسٹیٹیوٹ (کے ایم آئی) کی ڈویژن ہیڈ ہیوناہ ہونگ کے مطابق جنوبی کوریا میں بیماریوں کی بروقت تشخیص پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جس کی بدولت سنگین بیماریوں کا جلد پتہ چل جاتا ہے۔
غیر ملکی سیاح کس طرح معائنہ بک کراتے ہیں؟
غیر ملکی مسافر عام طور پر ہائیمیڈی اور کری ای ٹرپ جیسی کنسیئرج سروسز کے ذریعے پہلے سے وقت بک کراتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق معائنے کو سفر کے ابتدائی دنوں میں رکھنا بہتر ہوتا ہے کیونکہ بعض ٹیسٹوں کے لیے فاقہ، بے ہوشی یا بعد ازاں فالو اپ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اسپتال یا اسکریننگ کلینک؟
جنوبی کوریا میں مکمل طبی معائنے اسپتالوں اور خصوصی اسکریننگ کلینکس دونوں میں کرائے جا سکتے ہیں۔
کلینکس نسبتاً کم قیمت ہوتے ہیں تاہم اگر کسی سنگین بیماری کی نشاندہی ہو جائے تو مریض کو بڑے اسپتال بھیج دیا جاتا ہے۔
نتائج کتنے عرصے میں ملتے ہیں؟
اکثر مراکز سات سے 14 روز کے اندر ای میل کے ذریعے رپورٹ فراہم کرتے ہیں جو کئی زبانوں میں دستیاب ہوتی ہے۔ کوریا میڈیکل انسٹیٹیوٹ اور سیئول نیشنل یونیورسٹی اسپتال مکمل انگریزی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جنوبی کوریا میں دروازے بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں؟ غیر ملکی شہری نے حیران کن تجربات بیان کر دیے
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ رپورٹس اپنے ملک کے ڈاکٹر سے ضرور شیئر کی جائیں اور طبی سیاحت کے لیے الگ سفری انشورنس بھی لی جائے۔
ایک ہی دن میں مکمل معائنہ
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ہیدر بارلو نے بھی جنوبی کوریا میں صحت کا مکمل معائنہ کرایا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے وطن میں یہی پیکج 3 سے 4 گنا مہنگا تھا جبکہ سیئول میں صبح ساڑھے 8 بجے معائنہ شروع ہوا اور دن کے ایک بجے تک تمام ٹیسٹ مکمل ہو گئے۔
ان کے پیکج میں خون کے ٹیسٹ، ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور دیگر طبی معائنے شامل تھے۔
صرف چند گھنٹوں میں اینڈوسکوپی بھی
لیپنگ چاؤ نے بنیادی طبی پیکج منتخب کیا جس میں خون کے ٹیسٹ، سینے کا ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور اینڈوسکوپی شامل تھی۔
اینڈوسکوپی کے دوران ڈاکٹروں نے ان کے معدے سے پولپس بھی نکال دیے جس کے بعد انہیں چند گھنٹے کھانے سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پورا طبی معائنہ تقریباً 3 گھنٹے میں مکمل ہوگیا اور تمام عمل نہایت آرام دہ اور غیر ملکی مریضوں کے لیے دوستانہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی کوریا میں نیند کا بحران، انوکھا مقابلہ توجہ کا مرکز بن گیا
طبی معائنے کے بعد وہ دوستوں سے ملنے، ہیئر اپائنٹمنٹ اور پھر گینگنم میں ڈنر کے لیے بھی چلے گئے۔
زبان کی رکاوٹ بھی بڑی مشکل نہیں
اگرچہ جنوبی کوریا میں بیشتر ڈاکٹر انگریزی بول لیتے ہیں تاہم بعض معاون عملہ انگریزی سے واقف نہیں ہوتا۔
امریکی شہر نیویارک سے تعلق رکھنے والی کوریائی نژاد ربیکا گلیڈ اسٹون نے بتایا کہ انہوں نے بھی ہائیمیڈی کے ذریعے مترجم حاصل کیا جس نے پورے معائنے کے دوران ان کی رہنمائی کی۔
بعد ازاں انہیں انگریزی زبان میں پاس ورڈ سے محفوظ طبی رپورٹ ای میل کے ذریعے موصول ہوئی جس میں ایک الٹراساؤنڈ کے دوران مزید معائنے کی سفارش کی گئی تھی۔
انہوں نے اپنی رپورٹس جنوبی کوریا کے ڈاکٹر اور اپنے ملک کے معالج دونوں سے شیئر کیں۔
دوبارہ آنے کا ارادہ
ہیدر بارلو کا کہنا ہے کہ بعض ٹیسٹوں میں ایسے نتائج سامنے آئے جن کی آئندہ نگرانی ضروری ہے اسی لیے وہ ایک سے 2 سال بعد دوبارہ جنوبی کوریا آ کر طبی معائنہ کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بچے کو گولی لگنے پر جنوبی کوریا میں فوجی مشقیں معطل کر دی گئیں
ان کے مطابق سفر اور ہوٹل کے اخراجات کے باوجود جنوبی کوریا میں طبی معائنہ اب بھی ان کے لیے زیادہ سستا، تیز اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔














