نیپچون کے چاندوں پر اربوں سال پہلے کون سا ہولناک واقعہ پیش آیا؟ماہرین کو آثار مل گئے

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہرین فلکیات نے نیپچون کے چند اندرونی چاندوں اور اس کے گرد موجود گرد آلود حلقوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ نظامِ شمسی کے اس دور دراز سیارے کے گرد اربوں سال قبل ایک تباہ کن خلائی واقعہ پیش آیا تھا، جس نے اس کے اصل چاندوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

تحقیق کے دوران ناسا کی جدید جیمز ویب خلائی دوربین کی مدد سے نیپچون کے 3 چھوٹے اندرونی چاند پروٹیئس ، لاریسا  اور گیلیٹیا  کے ساتھ ساتھ اس کے اندرونی حلقوں کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔

سائنس دانوں نے ان چاندوں پر میگنیشیم سے بھرپور مٹی نما معدنیات  دریافت کیں، جو عام طور پر نظامِ شمسی کے بیرونی حصوں میں موجود بڑے اجرام کے اندرونی حصوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہی معدنیات بونے سیارے سیریز (Ceres) اور بعض شہابی پتھروں میں بھی پہلے دریافت ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے 10 ارب سال پرانے معمہ حل، ماہرین فلکیات نے ملکی وے کہکشاں کی حیران کن تاریخ دریافت کر لی

تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو سے وابستہ سیاروی سائنس دان رائلی ڈیوس کے مطابق یہ معدنیات اس وقت بنتی ہیں جب مائع پانی اور چٹانیں طویل عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ تعامل میں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیپچون کے یہ چھوٹے اور انتہائی سرد چاند خود ایسی کیمیائی سرگرمی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے یہ معدنیات لازماً کسی بہت بڑے اور قدیم آسمانی جسم کے اندرونی حصے سے آئی ہوں گی۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو سے وابستہ سیاروی سائنس دان رائلی ڈیوس

رائلی ڈیوس کے مطابق ان معدنیات کی موجودگی اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ ماضی میں نیپچون کے گرد موجود بڑے چاند کسی تباہ کن حادثے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے، جس سے ان کے اندرونی حصے بے نقاب ہوگئے۔ بعد ازاں انہی باقیات اور ملبے سے آج نظر آنے والے چھوٹے چاند اور حلقے دوبارہ تشکیل پائے۔

تحقیق، جو سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی، کے مطابق اس تباہی کا اصل سبب غالباً ٹرائٹن تھا، جو آج نیپچون کا سب سے بڑا چاند ہے، مگر ماضی میں کائپر بیلٹ  نامی علاقے میں موجود ایک آزاد آسمانی جسم تھا۔ یہی خطہ پلوٹو سمیت متعدد برفیلے اجرام کا مسکن سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 4.5 ارب سال قبل نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی ایک ارب سال کے دوران، جب بڑے گیس سے بھرپور سیارے اپنی موجودہ مداروں کی طرف منتقل ہو رہے تھے، نیپچون کی طاقتور کششِ ثقل نے ٹرائٹن کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیے 50 سالہ پرانی پراسرار گتھی سلجھ گئی: ماہرینِ فلکیات نے کہکشاں سے نکلنے والی تیز ہوا کا سراغ لگا لیا

ٹرائٹن کا حجم پلوٹو سے کچھ بڑا، لیکن زمین کے چاند سے نسبتاً چھوٹا ہے۔

تحقیق کے مطابق نیپچون کے گرد گردش شروع کرنے کے بعد ٹرائٹن کی کششِ ثقل نے سیارے کے اصل چاندوں کے مداروں کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ان میں بار بار تصادم ہوا اور بیشتر چاند مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ بعد میں انہی تصادموں سے پیدا ہونے والے ملبے سے نیپچون کے موجودہ اندرونی چاند وجود میں آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف نیپچون کے نظام کی ارتقائی تاریخ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ یہ بھی واضح کرے گی کہ نظامِ شمسی کے ابتدائی دور میں بڑے سیاروں کے گرد چاند کس طرح بنتے، ٹوٹتے اور دوبارہ تشکیل پاتے رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp