علم فلکیات کی دنیا میں ایک حیرت انگیز اور تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے، جہاں سائنسدانوں نے کائنات کے ایک 50 سال پرانے معمے کو حل کرتے ہوئے بالآخر ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع دیو ہیکل بلیک ہول سے خارج ہونے والی تیز ہوا کا سراغ لگا لیا ہے۔
چلی میں نصب دوربین اور امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایکس رے آبزرویٹری کے 5 سالہ مشاہداتی ڈیٹا کی مدد سے محققین نے ہماری کہکشاں کے عظیم بلیک ہول سے نکلنے والی تقریباً 20 ہزار سال پرانی ہوا کو دریافت کیا ہے۔ اس سے قبل، کئی دہائیوں کی تحقیق اور مسلسل کوششوں کے باوجود سائنسدان اس ہوا کی موجودگی کا ثبوت تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کہکشاں کی نئی حیران کن تصاویر، ستاروں کی پیدائش کے راز آشکار
جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے شریک سربراہ اور ماہرینِ فلکیات کے مطابق، ان کی ٹیم نے بلیک ہول کے قریب مخروطی شکل کا ایک بہت بڑا خلا دریافت کیا ہے، جو انتہائی گرم اور برقی چارج شدہ گیس سے بھرا ہوا ہے۔ یہ خلا بلیک ہول سے باہر کی طرف چلنے والی طاقتور ہواؤں کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔
اگرچہ یہ ہوا کائناتی پیمانے پر ایک دھیمی لہر کی مانند محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ اس خطے میں پہلے سے موجود سرد گیس کو گرم کرنے اور اسے وہاں سے دور دھکیلنے کے لیے کافی ہے۔ محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں توانائی کا اخراج صرف اور صرف ایک انتہائی بڑے بلیک ہول کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس نے اب ان پرانے نظریات کو سچ ثابت کر دیا ہے جو طویل عرصے سے فلکیات دانوں کے درمیان بحث کا موضوع تھے۔
تحقیق کی شریک سربراہ اور الینوائے کی یونیورسٹی میں فزکس اور فلکیات کی پروفیسر کا اس تاریخی دریافت پر کہنا تھا، “اس کامیابی نے نصف صدی پرانے معمے کو حل کر دیا ہے۔ جب گیس بلیک ہول کے اندر گرتی ہے، تو اس کا کچھ حصہ باہر کی طرف بھی پھینک دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہبل دور بین کی انوکھی دریافت، ایسی کہکشاں جس میں کوئی ستارہ نہیں
درحقیقت، بلیک ہول کے اندر گرنے والی گیس کے مقابلے میں زیادہ مقدار باہر خارج ہوتی ہے، اور یہی خارج ہونے والی گیس وہ ہوا ہے جس کی ہم بات کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جب ہم کروڑوں نوری سال دور واقع دیگر کہکشاؤں کو دیکھتے ہیں تو وہاں ایسے طاقتور جیٹس اور طوفانی ہواؤں کو دیکھنا آسان ہوتا ہے جو پوری کہکشاں کی گیس کو باہر نکال دیتی ہیں، لیکن ہماری اپنی کہکشاں کے بلیک ہول کے اس رویے کی تصدیق سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ہماری کہکشاں بھی کائنات کے دیگر حصوں کی طرح ہی کام کرتی ہے۔














