غزہ کے باسیوں نے ٹرمپ کا امن منصوبہ زمینی حقائق کے برعکس قرار دیدیا

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ کے شہریوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کو حقیقت سے بعید قرار دیا ہے جس میں انہوں نے حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی جانب ’اہم سنگِ میل‘ عبور کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائیوں نے امن کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اتوار کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 18 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جو گزشتہ سال ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے خونریز دنوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے اب تک کم از کم ایک ہزار 230 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت حماس ہتھیار ڈال دے گی جبکہ اسرائیل مرحلہ وار غزہ سے اپنی افواج واپس بلائے گا، تاہم اس اعلان کے فوراً بعد دونوں فریقوں کے درمیان نئی شرائط سامنے آگئیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوتی اور اس کی سرنگوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوج غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ دوسری جانب حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیل پہلے اپنے حملے بند کرے، اس کے بعد ہی معاہدے کے اس حصے پر عمل ممکن ہوگا جس کا تعلق اسلحے سے ہے۔

یہ بھی پڑھیے جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے غزہ امن معاہدے کو سنگین خطرہ ہے، قطر نے خبردار کردیا

دریں اثنا، ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے خصوصی نمائندے نکولے ملادینوف نے پیر کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ بورڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات تعمیری اور تفصیلی رہی۔

بیان کے مطابق غزہ میں اسلحے کا مکمل خاتمہ اور مسلح حکمرانی کی جگہ سول انتظامیہ کا قیام بنیادی ہدف ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے مرحلہ وار عمل اختیار کیا جائے گا۔

بورڈ نے مزید کہا کہ امریکی ثالثی میں اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے تحت قائم کی گئی ’ییلو لائن‘ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اسی وقت ہوگا جب حماس اپنی تمام ہلکی اور بھاری نوعیت کی اسلحہ صلاحیت اور زیرِ زمین سرنگوں کو ختم کرنے کے وعدے پر مکمل عمل کرے گی۔

زمینی صورتحال بدستور تشویشناک

غزہ میں زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں نے ایک بار پھر خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔

32 سالہ آیہ محمد زکی نےعالمی خبر رساں ادارے رائٹرز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہو۔

انہوں نے بتایا، ’ہر گھنٹے یا اس سے بھی کم وقفے میں حملے ہو رہے تھے، اور جنگی طیارے غزہ کے شمال، وسط اور جنوب ہر علاقے کو نشانہ بنا رہے تھے۔‘

اتوار کو جاں بحق ہونے والوں میں غزہ شہر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے میں ایک میاں بیوی اور ان کا بچہ بھی شامل تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی کنٹرول مزید وسیع

گزشتہ سال جنگ بندی کے تحت اسرائیلی افواج کو ابتدا میں غزہ کے 53 فیصد حصے پر کنٹرول برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں انخلا ہونا تھا۔ اس کے برعکس اسرائیل نے اپنا زیرِ قبضہ علاقہ مزید بڑھا لیا ہے۔

وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے 60 سے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے، جہاں سرنگوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

60 سالہ فلسطینی خاتون سمحہ دولہ نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی کنٹرول والا علاقہ ان کے گھر کے مزید قریب آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صبح بیدار ہونے پر دیکھا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے نصب کی گئی ییلو لائن کی نشاندہی کرنے والی زرد اینٹیں ان کے گھر کے مزید قریب منتقل کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’ہم ہر لمحہ نئی بے دخلی کے انتظار میں ہیں۔ ہماری پوری زندگی تباہ ہو چکی ہے، ہمارا مستقبل ختم ہو گیا ہے اور ہمارے بچوں کا مستقبل بھی برباد ہو گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے غزہ امن منصوبے پر پیشرفت کا خیرمقدم، فلسطینی ریاست کے قیام کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف

سمحہ دولہ کے خاندان کی طرح غزہ کے تقریباً تمام باشندے جنگ شروع ہونے کے بعد کئی مرتبہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان کے اردگرد ملبے کے ڈھیر اس علاقے کی گواہی دیتے ہیں جہاں کبھی آباد محلہ ہوا کرتا تھا، جبکہ ان کے پوتے پوتیاں اسی خیمے میں فرش پر کھلونوں سے کھیل رہے ہیں جسے اب انہوں نے عارضی گھر بنا رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ ٹرمپ کے اعلان سے حالات بہتر ہوں گے، لیکن اس کے برعکس تباہی بھی بڑھ گئی اور نقل مکانی بھی۔

اقوام متحدہ کی تشویش

رائٹرز سے گفتگو کرنے والے سات مختلف رہائشیوں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ییلو لائن کو مزید آگے بڑھانے کے بعد غزہ سٹی، دیر البلح اور خان یونس سمیت کم از کم پانچ مختلف علاقوں سے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) نے 20 جولائی کی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مشرقی غزہ شہر میں ییلو لائن کے قریب واقع علاقے سے اسرائیلی انخلا کے حکم کے بعد کم از کم 30 خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔

دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ معاہدے پر پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل گزشتہ سال اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد قبضے میں لیے گئے تمام علاقوں سے اپنی افواج واپس بلائے، تاہم اسرائیل اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا، جس کے باعث جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp