ساہیوال سی ٹی ڈی کیس: ورثا کی عدم موجودگی پر سپریم کورٹ کے سوالات، سماعت ملتوی

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں ساہیوال میں محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی کارروائی میں ایک خاندان کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مزید تیاری اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں سی ٹی ڈی نے ایک ہی خاندان کو قتل کیا تھا، جبکہ خاندان میں شامل بچوں کی لاشیں بھی جنگل میں پھینک دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر مقدمات فکس کرنے  کا سلسلہ ختم، رجسٹرار سپریم کورٹ

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) کی جانب سے ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس اپیل میں فریق بننے اور پروسیکیوشن کی معاونت کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

اس موقع پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا مقتول خاندان کے ورثا میں سے بھی کوئی عدالت میں آیا ہے؟

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: عمران خان کی اسپتال منتقلی کی درخواست پر رجسٹرار کے اعتراضات کالعدم، فوری نمبر الاٹ کرنے کا حکم

جس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے کہا کہ پنجاب کے موجودہ حالات میں متاثرہ خاندان کے لیے کھل کر سامنے آنا بہت مشکل ہے اور وہاں لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسایا جاتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سوال اٹھایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیا سپریم کورٹ کے پاس اس نوعیت کا اختیار موجود ہے؟ اس پر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت فیصلہ دینے کا اختیار رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کسی قسم کی معاونت درکار نہیں۔ اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں اس کے علاوہ آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔

بعد ازاں وکیل حسن رضا پاشا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل نے پورے پنجاب کے وکلا کے خلاف بات کی ہے۔

جس پر ذوالفقار بھٹہ نے وضاحت کی کہ انہوں نے وکلا کے خلاف نہیں بلکہ پنجاب کے حالات کے بارے میں بات کی ہے۔

مزید پڑھیں: 2 بچے موجود ہیں، شادی کا اور کیا ثبوت چاہیے؟ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس

ذوالفقار بھٹہ نے مزید بتایا کہ ان کی درخواست پر ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے اعتراضات عائد کیے تھے، جنہیں بعد میں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وکیل ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور ضروری دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp