اسٹیٹ بینک نے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور راست کیو آر پر مبنی ادائیگیوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے پیٹرول پمپس پر کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں سے متعلق رعایتی چارجز کا نظام 31 جنوری 2027 تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق پیٹرول اور متعلقہ مصنوعات کی خریداری کے لیے پیٹرول پمپس پر ہونے والی تمام کارڈ پریزنٹ ٹرانزیکشنز پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ زیادہ سے زیادہ ایک روپے فی لیٹر جبکہ انٹرچینج ری ایمبرسمنٹ فیس 20 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن میں مقیم پاکستانیوں کو جائیداد کی ڈیجیٹل منتقلی کی بڑی سہولت مل گئی
یہ رعایت پاکستان میں جاری کیے گئے تمام ادائیگی کارڈز پر لاگو ہوگی۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت میں اضافہ اور راست کیو آر پر مبنی ادائیگیوں کو تیزی سے فروغ دینا ہے۔
SBP Extends Concessionary Card Payment Charges for Fuel Stations Until January 2027
Read More : https://t.co/BpRnONu29F #SBP #DigitalPayments #Raast #FuelStations #PPDA #CashlessPakistan
— Thebizupdate.com (@thebizupdate) August 3, 2026
اس سلسلے میں بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز، پیٹرولیم کمپنیوں اور دیگر ادائیگی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیٹرول پمپ مالکان کے ساتھ مل کر راست کیو آر کی سہولت کی دستیابی اور فعال استعمال کو یقینی بنائیں۔
ایس بی پی نے کہا ہے کہ اس پالیسی کا 31 جنوری 2027 کے قریب مارکیٹ کے ردعمل اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جبکہ نئی ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان کی جانب پیشرفت: وزیراعظم کا ایک ہی ڈیجیٹل شناخت سے تمام سرکاری سہولیات فراہم کرنے کا اعلان
دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت پیٹرول پمپس کارڈ کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں پر تقریباً 0.8 فیصد بینک چارجز ادا کرتے ہیں، جو اوسطاً 2 روپے 40 پیسے فی لیٹر بنتے ہیں، اور یہی اخراجات ماضی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔
پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ اگرچہ ان کا مطالبہ کارڈ ادائیگیوں پر بینک چارجز مکمل طور پر ختم کرنے کا تھا، تاہم اسٹیٹ بینک کا حالیہ اقدام خوش آئند ہے کیونکہ اس سے ٹرانزیکشن لاگت کم ہوگی اور پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ان چارجز میں مزید کمی لائی جائے گی۔













