وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کے قومی ڈیجیٹلائزیشن وژن کا مقصد شہریوں کو ایک ہی ڈیجیٹل شناخت (ڈیجیٹل آئی ڈی) کے ذریعے تمام سرکاری سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قومی سطح پر مربوط ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک پر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جدید اور مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو اسلام آباد میں قومی سطح کے مربوط ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک پر عملدرآمد کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
مزید پڑھیں: وزیر اعظم کے وژن ’ڈیجیٹل پاکستان‘ کے تحت 9 نئے ٹیلی کام منصوبوں کی منظوری
اس موقع پر انہوں نے کہاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قومی ڈیجیٹل وژن پر عملدرآمد ایک مربوط معاشرے کی تشکیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ایک ڈیجیٹل آئی ڈی کے تحت تمام سہولیات
وزیراعظم نے کہاکہ قومی ڈیجیٹل وژن پر مکمل عملدرآمد کے بعد شہری ایک ہی ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے سرکاری دستاویزات کی تصدیق، بینکاری، صحت، رقوم کی منتقلی اور دیگر تمام سرکاری سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ قومی ڈیجیٹل کمیشن (این ڈی سی) کا اجلاس جلد طلب کیا جائے تاکہ صوبوں سمیت تمام متعلقہ فریقین کو اس پالیسی پر اعتماد میں لیا جا سکے۔
ترجیحی شعبوں میں فوری نفاذ کی ہدایت
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل وژن کا آغاز ترجیحی بنیادوں پر صحت، زراعت، یوٹیلٹیز، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) میں کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں منصوبے کے نفاذ کے بعد تمام سرکاری اور نجی جائیدادوں کے لیے ایک مرکزی شناختی نمبر جاری کیا جائےگا۔
اسی طرح ایس ایم ایز کے شعبے میں ڈیجیٹل نظام نافذ ہونے سے کاروباری اداروں کے لیے منفرد قانونی شناخت کا مربوط نظام قائم ہوگا، جس سے ملکی پیداوار میں اضافے میں مدد ملے گی۔
ڈیجیٹل وژن پر تیز رفتار پیشرفت
اجلاس کو بتایا گیا کہ قومی ڈیجیٹل وژن پر مکمل عملدرآمد کے لیے قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں سے مشاورت بھی کی جا رہی ہے تاکہ دنیا کے بہترین طریقہ کار سے استفادہ کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نئے قائم کیے گئے مرکزی ڈیٹا سینٹر ’اسکائی 47‘ کی سہولیات فوری اور مؤثر انداز میں تمام وفاقی اداروں کو فراہم کی جائیں۔ گزشتہ ہفتے افتتاح کیے گئے اس ڈیٹا سینٹر کی گنجائش 8.5 میگاواٹ ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ سرکاری شعبے میں قومی سطح پر ایک مرکزی ڈیٹا سینٹر تمام اداروں کے ڈیٹا کے لیے مشترکہ مرکز فراہم کرے گا، جبکہ مختلف اداروں کی جانب سے الگ الگ ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کی ضرورت ختم ہونے سے قومی وسائل کی بچت بھی ہوگی۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا کردار
وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) سرکاری خدمات اور سماجی نظام، خصوصاً شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک فعال، جدید اور انقلابی سمت متعین کررہی ہے۔
بیان میں قومی ڈیجیٹل وژن پر جاری پیشرفت کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس پالیسی کے مؤثر نفاذ سے پاکستان کی عالمی شراکت داری مضبوط ہوگی، بین الاقوامی فورمز پر ملک کی مؤثر نمائندگی ممکن ہوگی، جبکہ ادارہ جاتی فیصلہ سازی، کارکردگی اور شفافیت بھی عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو جائے گی۔
14 مزید شعبوں پر بھی کام جاری
بیان کے مطابق زراعت، خوراک، صحت، توانائی، ہاؤسنگ اور ایس ایم ایز کے علاوہ وزیراعظم کی ہدایت پر مزید 14 ترجیحی شعبوں میں بھی کام جاری ہے، جن سے متعلقہ شعبوں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور قومی معیشت، صنعت اور تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اجلاس میں اعلیٰ حکام کی شرکت
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
قومی ڈیجیٹل کمیشن کیا ہے؟
قومی ڈیجیٹل کمیشن (این ڈی سی) ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت قائم کیا گیا ہے، جس کے سربراہ وزیراعظم جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس کے ارکان ہیں۔
گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نئی ڈیجیٹلائزیشن پلیٹ فارم کا افتتاح بھی کیا تھا، جس کا مقصد سرکاری امور میں کاغذی نظام کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم: بٹ کوائن مائننگ و اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص
اسی ماہ پاکستان، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے چین کے شہر شنگھائی میں معاہدے پر دستخط کے بعد ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے بانی اراکین میں بھی شامل ہوا، جبکہ فروری میں وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ حکومت 2030 تک ملک کے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی تاکہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکے اور نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا سکے۔













