جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق حتمی فیصلہ عوام کی رائے اور باہمی مشاورت سے ہونا چاہیے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صوبے کیک کاٹ کر نہیں بنائے جاتے بلکہ متعلقہ صوبے کے عوام کا ردعمل اور رائے بھی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ نئے صوبوں کے معاملے پر عوام سے پوچھا جانا چاہیے کہ آیا وہ نیا صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ ہر فیصلہ مشاورت سے ہونا چاہیے اور قوموں کی شناخت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
’اپوزیشن کو متحرک کردار ادا کرنا چاہیے‘
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں اور انہیں مشورہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس طلب کریں۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی صرف ایک علاقے کے لیڈر نہیں بلکہ قومی سطح کی سیاسی شخصیت ہیں۔
’ملک آئین کے مطابق چلایا جائے‘
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دنیا میں مختلف نظام ناکام ہو چکے ہیں، جمہوریت اور آمریت دونوں اپنی خامیوں کے باعث تنقید کی زد میں ہیں، تاہم پاکستان کو آئین کے مطابق چلایا جانا چاہیے کیونکہ تمام مسائل کا حل آئین میں موجود ہے۔
محسن نقوی مستعفی کیوں نہیں ہوتے؟
مولانا فضل الرحمان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ کابینہ کے رکن ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو پھر انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے تھے، جبکہ 28ویں آئینی ترمیم میں کیا لایا جائے گا، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنی سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔
’بلوچستان حکومت میں شامل نہیں ہوں گے‘
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیاکہ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، آج بھی عوام کی توقعات جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ ہیں۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی کی گفتگو اور انداز گفتگو پر اعتراض مگر نواز شریف نے جواب دینے سے منع کردیا، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کے اپنے جذبات ہوتے ہیں، تاہم نئے چہرے فلموں کی اصطلاح ہے، سیاست کی نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ان کی ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات ہوئی تھی، تاہم انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ڈاکٹر مالک بلوچ وزیراعلیٰ بلوچستان بن رہے ہیں یا نہیں۔














