کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث پیش آنے والے حالیہ سانحے میں درجنوں کان کن جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں مزدوروں کی حفاظت کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری
محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ 3 برسوں کے دوران صوبے میں کوئلہ کانوں کے 114 حادثات میں 216 کان کن جاں بحق اور 26 زخمی ہوئے جبکہ 68 مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا۔
وی نیوز کو محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں کوئلہ کانوں کے 50 حادثات میں 84 کان کن جاں بحق، 13 زخمی جبکہ 37 مزدوروں کو زندہ نکالا گیا۔
اسی طرح سنہ 2025 میں 40 حادثات میں 69 کان کن جاں بحق، 3 زخمی ہوئے اور 28 مزدوروں کو ریسکیو کیا گیا جبکہ سنہ 2026 میں اب تک 24 حادثات میں 63 کان کن جان گنوا چکے ہیں اور 10 زخمی ہوئے ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کوئلہ کانوں میں حادثات کی سب سے بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام ہے۔
ان کے بقول کانوں میں کئی مقامات پر تجربہ کار مائن سردار تعینات نہیں کیے جاتے، باقاعدہ حفاظتی معائنہ (انسپیکشن) نہیں ہوتا اور گیس کی نگرانی سمیت دیگر حفاظتی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کوئلہ کان سانحہ، شانگلہ کے 28 نوجوانوں کے جنازے، پورا ضلع سوگ میں ڈوب گیا
انہوں نے کہا کہ کوئلہ کانوں میں سیفٹی کے بنیادی اصولوں پر سختی سے عمل کرایا جائے، جدید حفاظتی آلات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور باقاعدگی سے انسپیکشن کا نظام مؤثر بنایا جائے تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری پیر محمد کاکڑ نے وی نیوز کو بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے علاوہ کئی ایسے واقعات بھی ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر نمایاں نہیں ہو پاتے۔
ان کے مطابق سنہ 2024 میں ہرنائی کی شاہرگ کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے سے 20 مزدور جاں بحق ہوئے جبکہ اسی سال سنجدی کی ایک کان میں دم گھٹنے سے 10 مزدور زندگی کی بازی ہار گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان بڑے سانحات کے علاوہ بھی مختلف چھوٹے حادثات میں 20 سے زائد کان کن جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سنہ 2025 میں سنجدی کی ایک کوئلہ کان میں گیس بھر جانے کے باعث 20 مزدور جاں بحق ہوئے جبکہ سال بھر کے دوران دیگر مختلف حادثات میں 40 سے زائد کان کنوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔
مزید پڑھیں: سورینج کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا جاں بحق مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور مزدور تنظیموں کے اعداد و شمار میں کچھ فرق پایا جاتا ہے لیکن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں ہر سال درجنوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ حالیہ سورینج سانحہ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جب تک کانوں میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، جدید سیفٹی نظام، مؤثر نگرانی اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی نہیں بنایا جاتا ایسے سانحات کا سلسلہ رکنا مشکل ہے۔













