بلوچستان کے علاقے سورینج میں جمعرات کو ہونے والے کوئلے کی کان میں میتھین گیس کے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں اب تک 34 کان کنوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں مزید ممکنہ متاثرین کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان سورینج کی کوئلہ کان میں گیس دھماکا، 11 ہلاکتوں کی تصدیق، دیگر کو بچانے کی کوششیں جاری
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سورینج کے علاقے اسپین کاریز میں واقع متاثرہ کان سے اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کارروائی انتہائی مشکل حالات میں جاری ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب تک ریسکیو کارروائی کے دوران 11 لاشیں نکالی گئی تھیں اور کہا جا رہا تھا کہ 25 مزید مزدور کان کے اندر ہی پھنسے ہوئے ہیں ۔ اب حکام کا کہنا ہے کہ نکالی جانے والی کل لاشوں کی تعداد 34 ہوچکی ہے اور ممکنہ طور پر ابھی 2 مزدور نکالے جانے باقی ہیں۔
حکام کے مطابق حادثہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب تقریباً 4 ہزار فٹ گہرائی میں کان کن کام کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کان کے اندر میتھین گیس جمع ہونے کے باعث دھماکا ہوا جس کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی اور کان کے مختلف حصے منہدم ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف کے مطابق دھماکے کے وقت متاثرہ حصے میں مجموعی طور پر 36 کان کن موجود تھے۔ دھماکے کے بعد آگ، زہریلی گیسوں کے اخراج اور ملبہ گرنے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے کان میں پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے بنانے کی کوشش کی تاہم خطرناک گیسوں کی موجودگی اور اندرونی حالات کے باعث آپریشن انتہائی احتیاط سے آگے بڑھایا گیا۔
مزید پڑھیے: سورینج کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا جاں بحق مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان
دریں اثنا حکومت بلوچستان کے وزیر معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپکٹر آف مائنز، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مشترکہ طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔
The death toll from the Pakistan coal mine blast has risen to 34 after rescuers recovered more bodies from the collapsed mine in Balochistan’s Sorange area.
Search operations are continuing as teams look for any remaining trapped miners. #Pakistan #Balochistan #CoalMine… pic.twitter.com/gIt4FS8tRE— Sajjad Tarakzai (@SajjadTarakzai) July 31, 2026
انہوں نے جاں بحق کان کنوں کے اہلخانہ کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمی مزدوروں کے لیے 3 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔ صوبائی وزیر نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کرانے اور کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کا بھی اعلان کیا۔
کان کنی کے شعبے میں حفاظتی خدشات
سورینج کوئلہ کان حادثے نے ایک بار پھر پاکستان میں کان کنوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیر زمین کانوں میں ناقص ہوا داری، گیس کی نگرانی کے محدود نظام، حفاظتی آلات کی کمی اور کمزور نگرانی ایسے عوامل ہیں جو حادثات کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
مزدور تنظیموں کا مؤقف ہے کہ کان مالکان کی جانب سے حفاظتی قوانین پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ایسے واقعات بار بار پیش آتے ہیں۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن سمیت مختلف تنظیموں نے حادثے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بلوچستان میں ہزاروں افراد روزگار کے لیے کوئلہ کانوں میں کام کرتے ہیں جہاں خطرناک حالات کے باوجود مزدور اپنی زندگی داؤ پر لگا کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ کان کنوں کو محفوظ ماحول، مناسب حفاظتی سامان اور حادثات کی صورت میں فوری امداد فراہم کرنا یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیںَ: بلوچستان: کوئلہ کانیں محنت کشوں کے لیے قبریں کیوں ثابت ہو رہی ہیں؟
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔














