متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے 2 دھڑوں کے درمیان پارٹی مرکز بہادر آباد میں تصادم دیکھا گیا اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیلی جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت نعرے بازی اور ہاتھاپائی کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ فائرنگ بھی کی گئی اور کئی کارکن زخمی ہوئے جسکا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔
تصادم کی بنیادی وجوہات
ایم کیو ایم ذرائع اس معاملے کو اپنے اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں جیسے کہ ایک ذریعے کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان حیدرآباد میں ایک اجلاس تھا جہاں خالد مقبول صدیقی گروپ مضبوط ہے اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے انیس قائم خانی گروپ کو قریب آنے نہیں دیا یہ معمولی بات نہیں تھی اور سب کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا اور بہادر آباد مرکز پر جو ہوا وہ اسی کی ایک کڑی تھی۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ایم کیو ایم کیجانب سے ن لیگی امیدوار کی حمایت کا اعلان، مشترکہ حکومت سازی پر اتفاق
مرکزی دفتر کے کنٹرول کا مسئلہ
سینیئر صحافی فاروق سمیع کے مطابق بہادر آباد کا مرکز ایم کیو ایم کی سیاسی سرگرمیوں، فیصلہ سازی اور قیادت کے قیام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جس کے پاس اس دفتر کا کنٹرول ہوتا ہے، اسے تنظیمی طور پر زیادہ مضبوط اور بااختیار سمجھا جاتا ہے۔ جس کے پاس بہادر آباد کی چابی ہے اسی کے پاس پتنگ کی ڈور ہے اور جس کے پاس پتنگ کی ڈور ہے وہ جتنی چاہے اس پتنگ کو پرواز دے۔
قیادت کی باہمی چپقلش
ماضی میں ایم کیو ایم قیادت جن باتوں سے انکاری تھی وہ اب میڈیا کے ذریعے پوری قوم دیکھ چکی ہے اس وقت دونوں دھڑوں کے سرکردہ رہنما ایک دوسرے کے فیصلے ماننے سے انکاری ہیں، جس کے نتیجے میں کارکنان میں بھی تقسیم پیدا ہوئی اور بات تصادم تک پہنچی۔
تصادم کے اثرات
مصطفی کمال بظاہر کہتے نظر آرہے ہیں کہ کچھ نہیں ہوا کارکنان مطمئن ہیں لیکن اس واقعے سے کراچی کی سیاست اور پارٹی کی ساخت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس تنازع کے بعد عمومی کارکنان شدید تقسیم اور تذبذب کا شکار ہو چکے ہیں۔
بہادر آباد کے مرکز پر کسی ایک دھڑے کا کامل قبضہ کیوں نہ ہو سکا؟
اس حوالے سے ایم کیو ایم کے ایک ممبر قومی اسمبلی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک کوئی بھی دھڑا ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ ایک ہی ہے کہ چئیرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی ہیں فیصلے کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے، یہ الگ بحث ہے کہ وہ انٹرا پارٹی انتخابات کیوں نہیں کرا رہے، طاقت کے زور پر کوئی قبضہ کر بھی لے اس کی قانونی حیثیت کوئی نہیں ہوگی۔
عدالتی اور قانونی پیچیدگیاں
ماہر قانون خیر محمد خٹک کے مطابق بہادر آباد پر جبری قبضے کو قانونی طور پر کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوسکتی، قانونی طور پر ایم کیو ایم پاکستان کا مرکز بہادر آباد ہے، اس جماعت کا انتخابی نشان پتنگ ہے، اس جماعت کی ڈوریں چئیرمین کے پاس ہوں گی، چئیرمین پابند ہے کہ وہ وقت پر انٹرا پارٹی انتخابات کرائے اگر نہیں کرائے جاتے تو اسکے بھی قانونی راستے موجود ہیں، ابتک ان راستوں کو اپنایا بھی گیا ہوگا۔
مزید پڑھیں:ایم کیو ایم نے کس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ن لیگ سے اتحاد کیا؟
طاقت ہے تو مرکز پر قبضہ کیوں نہیں ہو پا رہا؟
فاروق سمیع کے مطابق اس وقت دونوں گروپوں کے پاس کارکنوں اور مقامی عہدیداروں کی مساوی یا متوازن حمایت موجود ہے، جس کی وجہ سے طاقت کے بل بوتے پر قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کا دھڑا اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اور وہ چاہے تو بہادر آباد پر کنٹرول حاصل کرسکتا ہے لیکن وہ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ طاقت سے مرکز کا حصول فائدہ مند نہیں ہوگا اسی لیے وہ بار بار الیکشن پر زور دے رہے ہیں اور ساتھ پریشر بھی بنا رکھا ہے۔
رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کا درمیانی مؤقف
پارٹی کے چند سینیئر اور غیر جانبدار رہنما معاملے کو باہمی بات چیت اور مصالحت سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کسی بھی ایک دھڑے کی یکطرفہ اجارہ داری کی مخالفت کر رہے ہیں۔ فی الوقت بہادر آباد اور اس کے گردونواح میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
شہری سندھ کا مخصوص ووٹ بینک اور سیاسی خلا
ایم کیو ایم رہنما حسان صابر کے مطابق کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے طبقات کی بڑی تعداد اب بھی ایم کیو ایم کو اپنی علاقائی اور لسانی شناخت کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے شہری سندھ میں پائے جانے والے خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ایک بڑا طبقہ اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ ان کے مخصوص بلدیاتی اور شہری مسائل پر سب سے زیادہ آواز ایم کیو ایم ہی اٹھاتی ہے۔
مشترکہ سیاسی بقا
سینیئر صحافی مبشر فاروق کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنما اور مختلف دھڑے اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اگر وہ بالکل جدا ہو گئے تو علیحدہ علیحدہ ان کی انتخابی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ ایوانوں میں نشستیں حاصل کرنے، وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ بننے اور ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے کے لیے ان کا یکجا رہنا ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔
طاقتور حلقوں اور مقتدرہ کا کردار
مبشر فاروق کے مطابق پاکستان کی ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ اکثر کراچی کے سیاسی و امن و امان کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو ملا کر رکھنے یا کامل تباہی سے بچانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ کراچی جیسے معاشی حب میں کسی ایک بڑے سیاسی سیٹ اپ کا مکمل خاتمہ یا بے قابو انتشار امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے طاقتور حلقے بحران کے وقت مصالحت پر زور دیتے ہیں۔
فاروق سمیع کے مطابق ایم کیو ایم کے مختلف گروپس میں کتنے ہی تصادم اور تنازعات کیوں نہ ہوں، ان کی سیاسی بقا، الیکشن سمبل کی اہمیت، شہری سندھ کا ووٹر اور طاقتور حلقوں کا توازن برقرار رکھنے کا دباؤ وہ اہم عوامل ہیں جو انہیں بالکل تباہ ہونے يا الگ تھلگ ختم ہونے سے روکے رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں:ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر 2 گروپوں میں تصادم اور فائرنگ، دہشتگردی کا مقدمہ درج
قانونی اور انتخابی آئیکون کا کنٹرول
فاروق سمیع کا کہنا ہے کہ بہادر آباد دھڑے کے پاس الیکشن کمیشن آف پاکستان کی باضابطہ منظوری ہے، جس کے تحت ایم کیو ایم کا رسمی نام اور اس کا انتخابی نشان پتنگ اسی گروپ کو حاصل ہے۔ پاکستان کی انتخابی سیاست میں ووٹر شناختی نشان پر ووٹ دیتا ہے، جس نے اس دھڑے کو قانونی و سیاسی طور پر مضبوط بنایا۔
اگرچہ ایم کیو ایم کے اندر باہمی کشمکش یا انفرادی اختلاف رائے کی خبریں آتی رہتی ہیں، لیکن قانونی حیثیت، پتنگ کا نشان، اور مصطفیٰ کمال و فاروق ستار کے انضمام کے بعد بھی بہادر آباد دھڑا ہی درحقیقت ایم کیو ایم پاکستان کی واحد اور سب سے طاقتور اکائی ہے جس نے قانون کا سہارا لیے رکھا ہے۔












