سپریم کورٹ نے مالک اور کرایہ دار کے تنازع سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کرایہ دار کو 6 ماہ کے اندر رہائشی فلیٹ خالی کرنے کا حکم دے دیا۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فوت شدہ ملازم کی پنشن اور مراعات پر صرف بیوہ یا نامزد شخص کا حق
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مالک کو اپنی جائیداد استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور وہ اس معاملے میں کرایہ دار کی مرضی یا خواہش کا پابند نہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک طے شدہ قانونی اصول ہے کہ اپنی ضرورت کا واحد منصف خود مالک ہوتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں مالک کی جانب سے جائیداد اپنے استعمال میں لانے کے لیے جمع کرایا گیا بیانِ حلفی اس کی حقیقی ضرورت ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔
مقدمے میں کرایہ دار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عمارت میں دیگر فلیٹس بھی خالی موجود ہیں، تاہم ہائیکورٹ نے اسی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مالک کے مؤقف کو درست قرار دیا۔
مزید پڑھیں:پنجاب اسمبلی بھرتیوں کا کیس: پرویز الٰہی کی اپیل 3 اگست کو سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر
یہ فیصلہ کراچی صدر کی ایک عمارت سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عقیل احمد عباسی نے تحریر کیا۔














