امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے نئے کیمرا نصب اسمارٹ چشموں نے رازداری سے متعلق خدشات کو جنم دے دیا، جس کے بعد برطانیہ کے کئی معروف کاروباری اداروں اور تفریحی مقامات نے ان کے استعمال پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لندن کے معروف ریسٹورنٹس، نجی کلبز، پبز اور تھیٹرز نے صارفین اور ملازمین کی نجی زندگی کے تحفظ کے لیے ان چشموں کے استعمال کو محدود یا ممنوع قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟
برطانیہ کے معروف ریسٹورنٹ مالک جیریمی کنگ کے زیر انتظام ریسٹورنٹس سمیت کئی مقامات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان چشموں کے ذریعے لوگوں کی اجازت کے بغیر تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاسکتی ہیں، جنہیں بعد میں سوشل میڈیا پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جیریمی کنگ نے کہا کہ وہ اپنے مہمانوں کی رازداری میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے، سوائے اس کے جو قدرتی طور پر ہماری آنکھوں سے ممکن ہے۔
برطانوی پب چین نے بھی اعلان کیا ہے کہ صارفین ان چشموں کے ذریعے دوسرے گاہکوں یا ملازمین کی اجازت کے بغیر ریکارڈنگ نہیں کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا پھر اسمارٹ چشمے لانے کا اعلان، کیا یہ کاوش کامیاب ہوجائے گی؟
پب انتظامیہ کے سربراہ ٹم مارٹن نے کہا کہ پبز میں عمومی اصول یہ ہے کہ کسی گاہک یا ملازم کی اجازت کے بغیر ویڈیو ریکارڈ نہیں کی جا سکتی، جبکہ میٹا کے چشمے اس اصول کے خلاف جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے خفیہ نگرانی ممکن ہے۔
تاہم ان چشموں کو صنعت کے کچھ حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ مشہور شیف ٹام کیریج نے کہا کہ موجودہ دور میں ریکارڈنگ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور اسے تخلیقی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ رازداری کو ان چشموں کی تیاری کے آغاز ہی سے مدنظر رکھا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق چشموں میں ایک لازمی ایل ای ڈی روشنی موجود ہے جو تصویر یا ویڈیو بناتے وقت روشن ہو جاتی ہے تاکہ اردگرد موجود افراد کو ریکارڈنگ کا علم ہوسکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
میٹا کے ترجمان نے کہا کہ لوگ ان چشموں کو موسیقی سننے، براہ راست ترجمے اور ہاتھوں کے بغیر کالز جیسی سہولیات کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاہم صارفین اور ان کے اردگرد موجود افراد کے لیے اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔














