گوگل کی مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنی ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈینس آفیسر لیلیٰ ابراہیم نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کا خطرہ مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا تاہم اس کے امکانات کے بارے میں کوئی مخصوص شرح بتانا محض اندازہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا کا اے آئی ماڈل سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران دوسری کمپنی کے سسٹم تک جا پہنچا
فورچیون میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیلیٰ ابراہیم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی نسل کے خاتمے کے خطرے کا امکان صفر نہیں لیکن اس کی درست شرح بیان کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا کیونکہ یہ صرف قیاس آرائی ہوگی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ وہ سنہ 2023 میں سینٹر فار اے آئی سیفٹی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی بقا کو لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنا عالمی ترجیحات میں جوہری جنگ اور عالمی وباؤں کی روک تھام کے برابر اہمیت کا حامل ہونا چاہیے۔ اس اعلامیے پر اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے شریک بانیوں نے بھی دستخط کیے تھے۔
لیلیٰ ابراہیم کا کہنا تھا کہ 3 سال بعد بھی وہ سمجھتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق وجودی خطرات پر گفتگو جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوگا۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی کی تحقیقات میں مزید اے آئی ایجنٹس کے قابو سے نکلنے کے شواہد، حکومتی نگرانی کے مطالبات تیز
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی عالمی وبا کی طرح کے کئی بڑے خطرات ایسے تھے جن کی شدت کا بروقت اندازہ نہیں لگایا جا سکا جبکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا جیسی ٹیکنالوجیز کے آغاز پر بھی ان سے جڑے خطرات کا مکمل ادراک نہیں کیا گیا تھا۔
لیلیٰ ابراہیم کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بارے میں مختلف ماہرین کے اندازے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے کے ممتاز سائنس دان جیفری ہنٹن کا خیال ہے کہ آئندہ 30 برسوں میں اے آئی سے انسانی نسل کے خاتمے کا خطرہ 10 سے 20 فیصد تک ہو سکتا ہے جبکہ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے کہا ہے کہ مستقبل کے انتہائی خراب ہونے کا امکان تقریباً 25 فیصد ہے۔
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ معروف ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ بھی چیٹ جی پی ٹی کے وجود میں آنے سے کئی برس پہلے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر چکے تھے۔
دوسری جانب لیلیٰ ابراہیم نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انتہائی پرامید پیشگوئیوں پر بھی شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر ان بیانات کا حوالہ دیا جن میں ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ سنہ 2036 تک روبوٹس کی بدولت دولت کی اہمیت کم ہو جائے گی جبکہ جیف بیزوس نے سال 2045 تک لاکھوں انسانوں کے خلا میں رہنے اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے خلا میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔
لیلیٰ ابراہیم کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث اس طرح کی دور رس پیش گوئیوں پر یقین کے ساتھ رائے دینا قبل از وقت ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال موسمیاتی تبدیلی، صنعتی آلودگی اور دیگر فوری عالمی مسائل کے حل کے لیے کیا جانا چاہیے جبکہ اس کے فوائد صرف چند بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ پوری انسانیت کو اس سے فائدہ پہنچنا چاہیے۔














