اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل کی مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنی ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈینس آفیسر لیلیٰ ابراہیم نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کا خطرہ مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا تاہم اس کے امکانات کے بارے میں کوئی مخصوص شرح بتانا محض اندازہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا کا اے آئی ماڈل سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران دوسری کمپنی کے سسٹم تک جا پہنچا

فورچیون میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیلیٰ ابراہیم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی نسل کے خاتمے کے خطرے کا امکان صفر نہیں لیکن اس کی درست شرح بیان کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا کیونکہ یہ صرف قیاس آرائی ہوگی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ وہ سنہ 2023 میں سینٹر فار اے آئی سیفٹی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی بقا کو لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنا عالمی ترجیحات میں جوہری جنگ اور عالمی وباؤں کی روک تھام کے برابر اہمیت کا حامل ہونا چاہیے۔ اس اعلامیے پر اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے شریک بانیوں نے بھی دستخط کیے تھے۔

لیلیٰ ابراہیم کا کہنا تھا کہ 3 سال بعد بھی وہ سمجھتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق وجودی خطرات پر گفتگو جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوگا۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی کی تحقیقات میں مزید اے آئی ایجنٹس کے قابو سے نکلنے کے شواہد، حکومتی نگرانی کے مطالبات تیز

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی عالمی وبا کی طرح کے کئی بڑے خطرات ایسے تھے جن کی شدت کا بروقت اندازہ نہیں لگایا جا سکا جبکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا جیسی ٹیکنالوجیز کے آغاز پر بھی ان سے جڑے خطرات کا مکمل ادراک نہیں کیا گیا تھا۔

لیلیٰ ابراہیم کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بارے میں مختلف ماہرین کے اندازے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے کے ممتاز سائنس دان جیفری ہنٹن کا خیال ہے کہ آئندہ 30 برسوں میں اے آئی سے انسانی نسل کے خاتمے کا خطرہ 10 سے 20 فیصد تک ہو سکتا ہے جبکہ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے کہا ہے کہ مستقبل کے انتہائی خراب ہونے کا امکان تقریباً 25 فیصد ہے۔

انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ معروف ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ بھی چیٹ جی پی ٹی کے وجود میں آنے سے کئی برس پہلے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر چکے تھے۔

دوسری جانب لیلیٰ ابراہیم نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انتہائی پرامید پیشگوئیوں پر بھی شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر ان بیانات کا حوالہ دیا جن میں ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ سنہ 2036 تک روبوٹس کی بدولت دولت کی اہمیت کم ہو جائے گی جبکہ جیف بیزوس نے سال 2045 تک لاکھوں انسانوں کے خلا میں رہنے اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے خلا میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔

لیلیٰ ابراہیم کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث اس طرح کی دور رس پیش گوئیوں پر یقین کے ساتھ رائے دینا قبل از وقت ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال موسمیاتی تبدیلی، صنعتی آلودگی اور دیگر فوری عالمی مسائل کے حل کے لیے کیا جانا چاہیے جبکہ اس کے فوائد صرف چند بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ پوری انسانیت کو اس سے فائدہ پہنچنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ 2026 کا شیڈول جاری، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل

بلوچستان اسمبلی تحلیل کرکے شفاف انتخابات کرائے جائیں، آل پارٹیز کانفرنس کا مطالبہ

میر رضا علی کیس کااہم موڑ، قبر کشائی، دوبارہ پوسٹ مارٹم کا عدالتی حکم، ابتدائی رپورٹ میں 14 سنگین خامیاں نکل آئیں

بلوچستان میں 2 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 12 دہشتگرد ہلاک

امریکی سرمایہ کاری سے پاکستان کا زرعی شعبہ جدید خطوط پر استوار ہوسکتا ہے، نیٹلی بیکر

ویڈیو

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

وزیراعظم، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ سعودی عرب آج سے، خطے کی صورتحال اور فلسطین سمیت اہم امور پر مشاورت ہوگی، دفتر خارجہ

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ