بسوں، ٹرینوں، ویٹنگ ایریاز، شاپنگ مالز اور دیگر عوامی مقامات پر موبائل فون کو اسپیکر پر چلا کر ویڈیوز دیکھنا، موسیقی سننا یا فون کالز کرنا اب ایک عام منظر بنتا جا رہا ہے تاہم اس عادت پر دنیا بھر میں بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وائرڈ ہیڈفون: وائرلیس دور میں پرانی تکنیک کی واپسی
حالیہ رپورٹس کے مطابق زیادہ تر افراد عوامی مقامات پر بغیر ہیڈفون کے موبائل استعمال کرنے کو دوسروں کے لیے پریشان کن سمجھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رویے میں اسمارٹ فونز، سستے موبائل ڈیٹا اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی دستیابی نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے لوگ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں یہ رجحان نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ہی ویڈیو یا موسیقی شیئر کرنے یا اپنی پسند کا اظہار کرنے کے لیے اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں جبکہ کچھ اسے سماجی اظہار یا اپنی موجودگی نمایاں کرنے کا ذریعہ بھی قرار دیتے ہیں۔
کوویڈ 19 صحت کے ساتھ سماجی آداب پر بھی اثر انداز ہوا
نفسیات اور سماجی رویوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 وبا کے بعد عوامی مقامات پر سماجی آداب میں بھی کچھ تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جس کے باعث ایسے رویوں میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیے: اگر آپ کو بھی پڑوس کا شور بہت پریشان کرتا ہے تو یہ خبر آپ کے لیے ہے؟س
دوسری جانب متعدد شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ حکام نے مسافروں سے ہیڈفون استعمال کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ دوسرے افراد کو شور سے بچایا جا سکے۔
بعض ممالک میں عوامی مقامات پر موبائل فون اسپیکر پر چلانے یا اونچی آواز میں کال کرنے پر جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ کہیں اس حوالے سے سخت قوانین پر غور جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیکنالوجی نے رابطے اور تفریح کو آسان بنا دیا ہے تاہم عوامی مقامات پر دوسروں کے سکون اور پرائیویسی کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہیڈفون کا استعمال ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ ہے جو غیر ضروری شور سے بچانے کے ساتھ سماجی آداب کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ لوگ اس رویے کے عادی ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسرے ماہرین کے مطابق آگاہی مہمات اور بہتر سماجی شعور کے ذریعے عوامی مقامات پر شور کی اس نئی شکل کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق عوامی مقامات پر اسپیکر آن کرکے ویڈیوز دیکھنے، موسیقی سننے یا فون پر بات کرنے کا رجحان دنیا کے کئی ممالک میں دیکھا جا رہا ہے۔
مختلف ممالک میں کارروائیاں
فرانس میں ایک شخص کو اسپیکر پر فون کال کرنے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے جبکہ پرتگال میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں فون کی بلند آواز پر پابندی اور جرمانے کا نظام موجود ہے۔
مزید پڑھیں: آتش بازی: بیماروں خصوصاً مائسو فونیا کے شکار افراد کے لیے ایک مشکل لمحہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل میں یہ رجحان نسبتاً زیادہ ہے کیونکہ وہ اسے اپنی شناخت کے اظہار اور دوستوں کے ساتھ مواد شیئر کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں تاہم اکثر دوسرے مسافر اسے پریشان کن رویہ تصور کرتے ہیں۔
ابھی سخت قوانین نہیں
اگرچہ کئی لوگ اس عادت سے نالاں ہیں لیکن زیادہ تر ممالک میں اس کے خلاف واضح قوانین یا مؤثر نفاذ موجود نہیں اسی لیے آگاہی مہمات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔














