ایک دوست سے پچھلے دنوں کچھ گیپ کے بعد ملاقات ہوئی۔ پیارے اور مخلص دوست ہیں، میرے لاہور کے ابتدائی برسوں کی نشانی۔ گھر سےباہر ملاقات ہوئی تھی، انہوں نےکسی کیفے میں جانے کے بجائے ڈھابہ ٹائپ چائے کی خواہش ظاہر کی، ہم پھر ایک قریبی کوئٹہ ہوٹل چلے گئے۔
چائے پیتے ہوئے گپ شپ ہوتی رہی۔ وہ کہنے لگے: یار ! زندگی کچھ عجیب انداز میں چل رہی ہے، یوں لگتا ہے جیسے چوبیس گھنٹوں کا دن سولہ، اٹھارہ گھنٹوں کا رہ گیا ہے۔ فراغت ہی نہیں ملتی۔ صبح کام، شام کام، رات کو واٹس ایپ گروپس، ہفتے کے آخر میں شادی بیاہ کی تقریبات، چچا کی بیٹی کی منگنی، خالہ کے بیٹے کا عقیقہ، دوست کا یوم پیدائش، آفس کا فیئر ویل، کسی این جی او کی فنڈ ریزنگ وغیرہ۔ تھوڑا وقت مل جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں عزیز یا دوست سے ملاقات کا وعدہ کئی ماہ سے ٹل رہا ہے۔ گویا ہر روز ایک طوفان اٹھ رہا ہے۔ کرنا کیا چاہیے؟
ویسے تو میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ایسے سوال بات برائے بات ہی کئے جاتے ہیں، ورنہ آج کل ہر کوئی اپنی دانست میں بہت سیانا ہے، سوشل میڈیائی زبان میں ڈیڑھ شانا۔ یہ دوست مگر واقعی پریشان نظر آئے، اوپر سے چائے اچھی بنی ہوئی تھی۔
میرے نزدیک اچھی مکس دودھ پتی چائے کی تعریف یہ ہے کہ چینی سرے سے نہ ہو، دودھ اچھا اور زیادہ ہو اور اس میں تیز پتی ڈال کر اسے خوب پکایا جائے، اور پھر دلکش گلابی رنگ کی دمکتی، دہکتی چائے کا کپ آپ کے سامنے پہنچے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کپ کو گرم پانی سے اچھی طرح دھویا گیا ہو تاکہ جب چائے آپ پئیں تو وہ لب سوز ہو۔
تو بھیا جی! جب آپ کے سامنے ایسی عمدہ چائے رکھی ہو، آپ گھونٹ گھونٹ اس کا مزہ لے رہے ہوں تو ایسے میں پھر مفت کی دانشوری دکھانے کا موقعہ کون ضائع جانے دیتا ہے؟ سو ہم نے بھی استادانہ تحمل اور ایک پروقار تمکنت سے ان کی پوری گفتگو سنی، چائے کا گھونٹ بھرا اور پوچھا، کیا یہ سب کام آپ کی زندگی کے لیے واقعی ضروری ہیں؟ کہنے لگے، ضروری تو نہیں، مگر کیا کریں، انکار کیسے کریں، رشتے داری ہے، تعلقات ہیں، سوسائٹی ہے۔ میں نے کہا، تو پھر مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کا رائٹر بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ایڈیٹر نہیں۔
ایڈیٹر اور رائٹر کا فرق
اس فقرے نے میرے دوست کو وہی جھٹکا پہنچایا جس کی مجھے توقع تھی۔ وہ چونک پڑے۔ میں نے سمجھایا کہ چودھری صاحب دا گریٹ! رائٹر وہ ہے جو نئی نئی چیزیں لکھتا ہے، اضافہ کرتا ہے، صفحے بھرتا ہے۔ ایڈیٹر وہ ہے جو غیر ضروری چیزیں کاٹتا ہے، فالتو سطریں ختم کرتا ہے، صرف اصل بات رہنے دیتا ہے۔ ہماری زندگی پہلے ہی بہت بھری ہوئی ہے، اب نیا کچھ شامل کرنے کی نہیں، پرانے کو کاٹنے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں تو اور بھی بہت سی گپ شپ ہوئی، حلقہ یاراں میں چلنے والی گوسپ بھی زیربحث آئی، پرانے گڑے مردے بھی اکھاڑے گئے، ہاسٹلز کے زمانے کی باتیں بھی ،جو کہ اب ہم قطعی نہیں چاہتے کہ آپ کے حساس کانوں تک پہنچیں۔ تاہم جو بنیادی نکتہ اوپر بیان کیا گیا، وہ اپنی جگہ اہم ہے اور مجھے لگا کہ اس پر مزید تفصیل سے بات کرنی چاہیے ۔
ہماری زندگی میں اصل مسئلہ کیا ہے؟
آج کل میں بڑے ذوق شوق سے عالمی اخبارات پڑھ رہا ہوں اور یہ بات بار بار شیئر بھی کرتا ہوں، اس حد تک کہ بقول میرے ایک دوست یہ تو اب ن لیگی حکومت کا پروپیگنڈہ لگنے لگا ہے ، یعنی سچ بھی ہو تو لوگ بے یقینی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ خیر پچھلے دنوں کسی امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک عام امریکی گھر میں اوسطاً تین لاکھ اشیا ہوتی ہیں، یعنی تین لاکھ چھوٹی بڑی چیزیں، جن میں سے بیشتر سال میں ایک بار بھی استعمال نہیں ہوتیں۔
پاکستان میں شاید یہ تعداد کم ہو، مگر یہاں بھی گھر کے ہر کمرے میں چیزوں کے ڈھیر ہیں۔ الماری کھولنے کی ہمت نہیں ہوتی، گاڑی کی ڈکی نہ کھولنا بہتر سمجھا جاتا ہے، فون کی گیلری میں ہزاروں تصاویر ہیں جنہیں دیکھنے کا وقت نہیں۔ ای میل کا ان باکس لاتعداد بغیر پڑھے ہوئے پیغامات سے بھرا ہے۔ میرے جیسے لوگ بہت سی پوسٹیں اہم سمجھ کر واٹس ایپ فولڈر میں یا فیس بک پر اونلی می کر کے سیو کر لیتے ہیں مگر حرام ہے کہ کبھی پھر دیکھنے کا وقت ملا ہو۔
صرف ضروری چیزوں کا انتخاب
آج کل مغرب میں ایک تحریک چل رہی ہے جسے انگریزی میں مِنی مَل ازم یعنی کم سے کم پسندی، کہا جاتا ہے۔ ایک دہائی قبل جاپانی مصنفہ میری کونڈو کی کتاب مشہور ہوئی تھی ،‘دی لائف چینجنگ میجک آف ٹائڈنگ اپ’ کہتے ہیں اس کا اب تک چالیس بیالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ایک کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس میں اس نے ایک سادہ سا مگر دلچسپ اصول دیا: ’اپنی ہر چیز ہاتھ میں اٹھائیں اور پوچھیں، کیا یہ مجھے خوشی دیتی ہے؟ اگر نہیں، تو اسے رخصت کر دیں۔ یہ اصول کپڑوں، کتابوں، فرنیچر، تحفوں سب پر لاگو ہوتا ہے۔‘
برطانوی نژاد امریکی مصنف گریگ میک کیون نے بھی اس موضوع پر ایک فکرافروز کتاب لکھی،ایسنشل ازم، یعنی صرف ضروری چیزوں کا انتخاب۔ ویسے بائی دا وے آپ کو میرے مطالعہ سے مرعوب ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں کیونکہ خاکسار نے بھی یہ کتاب نہیں پڑھی، صرف اس کی سمری سے کام چلایا ہے۔
میک کیون کا کہنا ہے کہ ہم سب اپنی زندگی میں اس وقت پھنس جاتے ہیں جب ہم بہت سی چیزوں کو ٹھیک طرح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ہم میں سے بہت کم لوگ یہ ہمت رکھتے ہیں کہ صرف ضروری چیز کو شاندار طریقے سے کریں۔ یہ اصول رشتوں، عادتوں، عزائم اور خوابوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ کئی رشتے ہم نبھا رہے ہیں صرف اس لیے کہ بچپن میں شروع ہوئے تھے، حالانکہ اب ان میں محبت بچی ہی نہیں۔
مجھے اس حوالے سے مفتی جی (ممتاز مفتی) یاد آتے ہیں، کمال کے آدمی تھے۔ مفتی کی تحریریں پڑھنے والے کو ایک بات سمجھ آ جاتی ہے کہ خواہ مخواہ کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہمارے بیشتر لبرلز، سیکولرز ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کا نام سن کر ہی چڑ جاتے ہیں مگر یہ دونوں کمال لکھاری ہیں۔ میری زندگی میں تو بہت سی خوبصورت باتیں ان دونوں اور قدرت اللہ شہاب کی وجہ سے شامل ہوئیں۔ اپنے خاندان کے مرحوم بزرگوں، عزیز واقارب کے لئے فاتحہ پڑھوں تو ان تینوں اور ساتھ میں واصف علی واصف کے لیے لازمی دعائے مغفرت کرتا ہوں۔ ممتاز مفتی نے ساری زندگی کم سے کم چیزوں کے ساتھ گزارنے کی کوشش کی۔ یہی وہ اپنی تحریروں میں سمجھاتے تھے۔
صحافت کا وہ سبق جو زندگی میں کام آیا
جب میں نے صحافت شروع کی تو ابتدائی تین چار برس اردو ڈائجسٹ میں گزرے۔ الطاف حسن قریشی مدیر تھے اور دفتر میں کئی باکمال، تجربہ کار ہنرمند سینئرز موجود تھے، محسن فارانی، ڈاکٹر امین اللہ وثیر، قاضی ذوالفقار احمد جیسے۔ سیدقاسم محمود جیسے لیجنڈ بھی کچھ عرصہ وہاں آتے رہے۔ ان سب سے بہت کچھ سیکھا۔ ایک بات یہ کہ اچھی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ زوائد یعنی غیر ضروری الفاظ، جملے لازمی کاٹ دئیے جائیں۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اللہ ان کی مغفرت فرمائے، کہا کرتے تھے، جس فقرے کونکالنے سے پیرے کے مفہوم میں فرق نہیں پڑتا، وہ زائد ہے، اسے ایڈٹ کر دیں۔ اردو ڈائجسٹ کی بحثوں میں ایک بات کسی سے سنی کہ اچھی تحریر کی خوبی یہ نہیں کہ اس نے کیا لکھا ہے بلکہ یہ کہ اس نے کیا نہیں لکھا۔ یہ مہارت کم لوگوں کو ملتی ہے۔
یہی بات ہماری زندگی پر بھی صادق آتی ہے۔ بہت کچھ کر گزرنا ہر کوئی چاہتا ہے، مگر بہت کچھ نہ کر گزرنا، صحیح موقع پر صحیح چیزوں کو نکھارنا اور غیر ضروری کو نکال دینا ، ایڈٹ کر دینا ہی اصل آرٹ ہے۔
اب زندگی کو ایڈٹ کرنے کا وقت ہے
پاکستانی معاشرے میں زندگی کو خوبصورت بنانے سے زیادہ اسے اوورلوڈ کرنے پر زور ہے۔ بیٹی کی شادی پر ایک ہزار مہمان بلانے ہیں، چاہے ان میں سے آٹھ سو وہ ہوں جنہیں دلہا دلہن نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھااور نہ آئندہ دیکھیں گے۔ گھر کی سجاوٹ میں اتنی چیزیں رکھنی ہیں کہ گھر چھوٹا لگنے لگے۔ ڈرائنگ روم کو سجاوٹی اشیا سے بھر دیں۔بچوں کے شیڈول میں اتنی ٹیوشن، کلاسز، اتنی ایکٹوٹیز ڈال دی جاتی ہیں کہ اس بے چارے کے پاس فارغ بیٹھ کر سوچنے کے لیے ایک گھنٹہ بھی نہیں بچتا۔
’ٹھہر کر سوچنا، خاموش بیٹھنا، اور بے کار رہنا‘ ، یہ تین چیزیں ہماری ثقافت میں جرم بن چکی ہیں۔ حالانکہ یہ تینوں ہی تخلیق، عبادت اور تربیت کی بنیاد ہیں۔ ہمارے ہاں اب کوئی بچہ بور نہیں ہوتا، کیونکہ بور ہونے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ افسوس کہ ہم نہیں جانتے کہ بور ہوئے بغیر تخیل زرخیز نہیں ہوسکتا۔ یہ بات سائنسدانوں نے بھی ثابت کی ہے اور ہمارے بزرگ صدیوں سے سادگی سے بتاتے آئے ہیں۔
جو ڈیوڈ نہیں، اسے ہٹا دیں
دلچسپ یہ ہے کہ کاروباری دنیا میں بھی اب ایڈیٹنگ کا اصول لاگو ہو رہا ہے۔ ایپل کے بانی اور بزنس لیجنڈ سٹیو جابز ہر سال اپنی پروڈکٹ لائن کا جائزہ لیتے۔ اپنی ٹیم سے وہ پوچھتے، اگلے سال ہم کیا نیا بنائیں گے؟ پھر دوسرا سوال، اگلے سال ہم کیا چیز بنانا بند کریں گے؟ یہ دوسرا سوال زیادہ اہم تھا۔سٹیوجابز کا کہنا تھا کہ کسی بھی اچھی کمپنی کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کیا بناتی ہے، یہ ہے کہ وہ کیا نہیں بناتی۔ سٹیو جابز نے ایپل کو اس وقت بحران سے نکالا جب اس نے ستانوے میں کمپنی کی سینکڑوں پروڈکٹس بند کر کے انہیں صرف دس تک محدود کیا اور ان میں سے بھی چار پر فوکس کیا۔
یہی فلسفہ ہمیں اپنی ذاتی زندگی پر لاگو کرنا چاہیے۔ اپنے کاموں کی فہرست بنائیں۔پھر خود سے سوال کریں،اگر یہ بیس میں سے دس ختم ہو جائیں تو کیا فرق پڑے گا؟ آپ حیران ہوں گے کہ آدھے کام ایسے ہیں جنہیں نہ کرنے سے ہی فائدہ ہوگا۔
ایک اور معروف تشبیہ ذہن میں آئی۔ مجسمہ ساز مائیکل اینجلو سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ کا مشہور مجسمہ ڈیوڈ کیسے بنا؟ مسکرا کر بولے، آسان تھا، میں نے بس ماربل کے بڑے ٹکڑے سے جو ڈیوڈ نہیں تھا، اسے ہٹا دیا۔
ہم بھی اپنی زندگی کا ڈیوڈ تخلیق کر سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ جو ڈیوڈ نہیں ہے، اسے ہٹانے کی ہمت کریں۔ سمپلی وہ سب کچھ ہٹانا ہے جو ہم نہیں ہیں۔ اپنے اندر سے، اپنے اوپر سے ۔
اہم سوال یہ نہیں کہ ’مجھے اور کیا کرنا ہے؟‘ بلکہ یہ ہے کہ ’مجھے کیا چھوڑ دینا چاہیے؟‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













