ہیلتھ کیئر : غلطی تسلیم کرنے سے بہتری کا سفر

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صحت کے شعبے میں شاید سب سے اہم اور طاقتور جملہ یہ ہے: ’مجھ سے غلطی ہوئی ہے‘۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ تصور عام ہے کہ ایک اچھا طبی منتظم یا اسپتال کا سربراہ کبھی غلطی نہیں کرتا۔ اسے ہر مسئلے کا حل پہلے سے معلوم ہوتا ہے، اس کے فیصلے ہمیشہ درست ہوتے ہیں اور وہ ہر مرحلے پر کامیاب رہتا ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کوئی بھی انسان غلطیوں سے پاک نہیں ہوتا۔ اصل فرق یہ ہے کہ ایک اچھا رہنما اپنی غلطی مان لیتا ہے، اس سے سبق سیکھتا ہے اور آئندہ اسے دہرانے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو ادارے غلطیوں کو چھپاتے ہیں، وہاں نہ صرف مریضوں کی حفاظت خطرے میں پڑتی ہے بلکہ ترقی کا عمل بھی رک جاتا ہے۔

ایک ذمہ دار طبی رہنما غلطی سامنے آنے پر بہانے نہیں بناتا اور نہ ہی سارا الزام ماتحت عملے پر ڈال دیتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹ پھولنے کی 5 بڑی وجوہات کیا ہیں؟ ماہرین نے مؤثر حل بھی بتا دیے

مثلاً اگر کسی مریض کو غلط دوا دے دی جائے تو صرف نرس یا فارماسسٹ کو قصوروار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک اچھا منتظم یہ سوچتا ہے کہ آخر ایسا نظام کیوں موجود تھا جس میں یہ غلطی ممکن ہوئی۔ پھر وہ اس نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔

صحت کے شعبے میں ہر غلطی ایک نئی سیکھنے کا موقع ہوتی ہے۔ اگر آپریشن تھیٹر یا ایمرجنسی میں کوئی سنگین واقعہ پیش آئے تو اسے چھپانے کے بجائے اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ غلطی کہاں ہوئی، کیوں ہوئی اور آئندہ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ اکثر مسئلے کی جڑ کسی ایک فرد کی کوتاہی نہیں بلکہ نظام کی کمزوری ہوتی ہے۔

ایک رہنما ہر حادثہ نہیں روک سکتا، لیکن اس کے بعد کیا کرنا ہے، یہ اس کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہو تو صرف عملے کو سست قرار دینا کافی نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ پورے نظام کا جائزہ لیا جائے، غیر ضروری مراحل ختم کیے جائیں اور کام کو زیادہ منظم بنایا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر اور بروقت سہولت مل سکے۔

اچھا رہنما تعریف سن کر خوش ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ تنقید سے بھی نہیں گھبراتا۔ وہ ڈاکٹروں، نرسوں، دیگر عملے اور مریضوں سب کی رائے سنتا ہے، کیونکہ بہتری کی راہ اکثر انہی لوگوں کی تجاویز سے نکلتی ہے جو روزانہ اس نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔

اسپتال کے سربراہ کو صرف دفتر میں بیٹھ کر فیصلے نہیں کرنے چاہییں بلکہ وارڈز، ایمرجنسی، لیبارٹری اور دیگر شعبوں کا خود بھی باقاعدگی سے دورہ کرنا چاہیے تاکہ مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے اور عملے کی مشکلات کو بہتر انداز میں سمجھ سکے۔

بہترین طبی رہنما وہ نہیں ہوتے جن سے کبھی غلطی نہ ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، اس کی اصل وجہ تلاش کرتے ہیں، نظام کو بہتر بناتے ہیں اور اپنی پوری ٹیم کو ساتھ لے کر آگے بڑھتے ہیں۔

اسی رویے سے مریضوں کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے، علاج کا معیار بہتر بنتا ہے اور ادارہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔

مضمون نگار کا تعارف:

ڈاکٹر ظفر اقبال ایک سینیئر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ  ہیں۔ ان کی بنیادی فکری و تحقیقی دلچسپی اخلاقی طبی پریکٹس، ہیلتھ کیئر مینجمنٹ اور کوالٹی امپرومنٹ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا علی قتل کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اہلخانہ کا اعتراض، نئی کمیٹی مسترد کردی

پاکستان میں عالمی معیار کے اسپورٹس جوتے تیار ہوں گے، فارورڈ اسپورٹس اور چینی کمپنی کے درمیان معاہدہ

تھائی لینڈ: نو عمر طالب علم نےدادا، دادی، اساتذہ اور ساتھی طلبہ پر گولیاں برسا دیں، 7 ہلاک، متعدد زخمی

ایمازون اور ٹیمو سمیت 42 کمپنیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، نیویارک کے میئر نے قانونی نوٹس جاری کردیے

وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کا پہلا مرحلہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت

ویڈیو

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟